منافقانہ عادات وصفات کی ایک جھلک

idara letterhead universal2c

منافقانہ عادات وصفات کی ایک جھلک

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہل سنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ بِأَنَّ لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً، الَّذِیْنَ یَتَّخِذُونَ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِیْنَ أَیَبْتَغُونَ عِندَہُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّٰہِ جَمِیْعاً، وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْْکُمْ فِیْ الْکِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللّٰہِ یُکَفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُواْ فِیْ حَدِیْثٍ غَیْْرِہِ إِنَّکُمْ إِذاً مِّثْلُہُمْ إِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْکَافِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعاً، الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُونَ بِکُمْ فَإِن کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُواْ أَلَمْ نَکُن مَّعَکُمْ وَإِن کَانَ لِلْکَافِرِیْنَ نَصِیْبٌ قَالُواْ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْْکُمْ وَنَمْنَعْکُم مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَن یَجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً، إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ یُخَادِعُونَ اللّٰہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَی الصَّلاَةِ قَامُواْ کُسَالَی یُرَآؤُونَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُونَ اللّٰہَ إِلاَّ قَلِیْلاً، مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْْنَ ذَلِکَ لاَ إِلَی ہَؤُلاء وَلاَ إِلَی ہَؤُلاء وَمَن یُضْلِلِ اللّٰہُ فَلَن تَجِدَ لَہُ سَبِیْلاً، یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِیْنَ أَتُرِیْدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّٰہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً مُّبِیْناً، إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِیْ الدَّرْکِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْراً، إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَاعْتَصَمُواْ بِاللّٰہِ وَأَخْلَصُواْ دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَأُوْلَئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ أَجْراً عَظِیْماً، مَّا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِن شَکَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِراً عَلِیْماً﴾․(سورة النساء، آیت:138 تا147)

خوش خبری سنا دے منافقوں کہ ان کے واسطے ہے عذاب درد ناکo وہ جو بناتے ہیں کافروں کو اپنا رفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر، کیا ڈھونڈتے ہیں ان کے پاس عزت؟ سو عزت تو اللہ ہی کے واسطے ہے ساریo اور حکم اتار چکا تم پر قرآن میں کہ جب سنو اللہ کی آیتوں پر انکار ہوتے اور ہنسی ہوتے تو نہ بیٹھو ان کے ساتھ، یہاں تک کہ مشغول ہوں کسی دوسری بات میں، نہیں تو تم بھی انہیں جیسے ہوگئے، اللہ اکھٹا کرے گا منافقوں اور کافروں کو دوزخ میں ایک جگہo وہ منافق جو تمہاری تک میں ہیں پھر اگر تم کو فتح ملے اللہ کی طرف سے تو کہیں کیا ہم نہ تھے تمہارے ساتھ؟ اور اگر نصیب ہو کافروں کو تو کہیں کیا ہم نے گھیر نہ لیا تھا تم کو اور بچا دیا تم کو مسلمانوں سے؟ سو اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کے دن اور ہر گز نہ دے گا اللہ کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ کی راہo البتہ منافق دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغا دے گا اور جب کھڑے ہوں نماز میں تو کھڑے ہوں ہارے جی سے، لوگوں کے دکھانے کو اور یاد نہ کریں اللہ کو مگر تھوڑا ساo ادھر میں لٹکتے ہیں دونوں کے بیچ نہ ان کی طرف نہ ان کی طرف اور جس کو گم راہ کرے اللہ تو ہرگز نہ پاوے گا تو اس کے واسطے کہیں راہo اے ایمان والو! نہ بناؤ کافروں کو اپنا رفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر، کیا لینا چاہتے ہو اپنے اوپر اللہ کا الزام صریح؟o بے شک منافق ہیں سب سے نیچے درجے میں دوزخ کے اور ہر گز نہ پاوے گا تو ان کے واسطے کوئی مدد گار، مگرجنہوں نے توبہ کی ا وراپنی اصلاح کی اور مضبوط پکڑا اللہ کو اور خالص حکم بردار ہوئے اللہ کے، سو وہ ہیں ایمان والوں کے ساتھ اور جلد دے گا اللہ ایمان والوں کو بڑا ثوابo کیا کرے گا اللہ تم کو عذاب دے کر اگر تم حق کو مانو اور یقین رکھو اور الله قدردان ہے سب کچھ جاننے والاo

منافقانہ عادات وصفات کی ایک جھلک

ان آیات میں منافقین کی چند عادات اور ان کے انجام سے آگاہی دی گئی ہے، جسے ترتیب وار بیان کیا جاتا ہے۔

منافقین کو درد ناک اخروی انجام کی خبر دے دی گئی ہے۔

منافقین کی ایک صفت یہ ہے کہ دنیا کی جھوٹی عزت اور واہ واہ کے حریص ہوتے ہیں، اسی حب جاہ اور حب مال کی بیماری میں مبتلا ہو کر مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ان کے ہم راز بن کر مسلمانوں کی جا سوسیاں کرتے ہیں۔ انہیں کو فائدہ پہنچانے کی تگ ودو میں رہتے ہیں، تاکہ بدلے میں دنیاوی مرتبہ اور منصب ملے، مال ودولت کی فراوانی نصیب ہو۔

جب ان کو اس بے عملی پر تنبیہ کی جائے، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات سے آگاہ کیا جاے تو نصیحت حاصل کرنے کی بجائے، احکام دین کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں، اس کے نفع ونقصان کو زیر بحث لا کر اسے ناقابل عمل قرار دینے لگتے ہیں۔ جب کوئی منافق کسی مجلس میں احکامات خداوندی کو مذاق بنانے لگے تو پھر مومن کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اس کی تردید کرے، تاکہ منافق اس موضوع کو بد ل دے اور اگر وہ اپنی خباثت پر ڈٹا رہے تو مومن کو اس مجلس سے نکل جانا چاہیے۔ منافق کی ایسی باتوں کے سامنے خاموش رہنا جو صراحتاً قرآن وسنت کے خلاف ہوں گونگا شیطان بننے کے مترادف ہے، یہ خاموشی رضا کی دلیل سمجھی جائے گی اور ایسا شخص منافق کا معاون سمجھا جائے گا، اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو منافق کا ہوگا۔ منافق اور کافر کا حشر سب کو معلوم ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

منافقین کی نفسیات پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ مال، شہرت اور عہدہ و منصب ہی ان کی زندگی کا اصل ہدف ہوتا ہے، اس لیے ہر ایسے گروہ سے…مخلص ہوتے ہیں جہاں سے مقاصد کی تکمیل کی کرن پھوٹتی نظر آئے ،اسی گروہ میں اپنا ٹھکانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایمان اور کفر بے معنی الفاظ ہیں۔ اسی وجہ سے نہ کافروں کو ان پر اعتماد ہوتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو، یہ بھی کسی ایک کے وفادار نہیں رہتے، موقع کی نزاکت اور حالت کی رفتار کے ساتھ اپنی وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔ مسلمان اپنی حکمت ومصلحت کے پیش نظر انہیں اعلانیہ کافر وں کی صفوں میں دھکیلنے سے گریز کرتے ہیں۔ اور کافر اپنے مقاصد کی حد تک انہیں اپنا ہونے کا خواب دکھاتے رہتے ہیں اور مزید مطالبات بھی بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ اگر ایمان وکفر کے معرکہ میں مسلمان فتح کے جھنڈے گاڑ دیں تو اہل ایمان کے پاس اپنائیت جتانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے، اس لیے فتح یابی کے فوائد میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ اور اگر کافروں کو غلبہ مل جائے، مسلمان شکست سے دوچار ہو جائیں تو فوراً کافروں کی صف میں پہنچ کر ان کو اپنے احسانات یاد کراتے ہیں کہ دیکھو! مسلمان تمہیں گھیر چکے تھے، مگر ہم نے ہی اپنی تدبیروں سے تمہارا بچاؤ کیا، وگرنہ تم کب کے شکست کھا چکے ہوتے، لہٰذا اس ناز ک موقع پر جو وفا تمہارے ساتھ کی ہے اس کا صلہ دو، امداد وفنڈ کے نام پر ہماری قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرو، اللہ تعالیٰ نے ان کی چالاکیوں اور دوغلی پالیسیوں کے انجام پر ایک ہی جملہ اشارہ فرما دیا ﴿واللّٰہ یحکم بینکم یوم القیامة﴾ قیامت کا دن ہی فیصلے کا دن ہے ،جہاں کوئی حجت بازی کام نہیں آئے گی، ساری چالاکیاں اور غرور وتکبر دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔

دھوکہ دہی ان کی گھٹی میں پڑی ہے، ان کے کسی عہد وپیمان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، یہاں تک کہ خدا کو بھی دھوکہ دینے کے زعم میں ہوتے ہیں۔ نماز اللہ کا حق ہے اورایمان کے مدعی پر فرض ہے، مگر منافقین دل سے احکام خداوندی کی تصدیق ہی نہیں کرتے ،اس لیے ان پر عمل کرنے میں کتراتے ہیں۔ دکھلاوے کی مسلمانی ان کی مجبوری ہے ،اس لیے سستی ،کاہلی کے ساتھ،بوجھ سمجھ کر نماز پڑھ لیتیہیں، تاکہ کوئی ہمارے ایمان واسلام پر شک نہ کر سکے اور اللہ کی یاد بھی بس اتنی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو دھوکہ دے سکیں۔

ان کی عملی اور فکری زندگی بے اطمینانی کی نذر ہوجاتی ہے۔ ایمان وکفر میں کسی ایک کے انتخاب کے بجائے دونوں سے تعلق جوڑنے کی فکر انہیں کہیں کا بھی نہیں چھوڑتی، پوری زندگی اسی حیرانی وپریشانی اور سر گردانی میں گزر جاتی ہے۔ بے اطمینانی کی یہ کیفیت بھی در حقیقت خدا کا عذاب ہے۔

منافقین کی عادتوں کے ضمن میں اہل ایمان کو ایک بار پھر متنبہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستیاں مت بناؤ۔ اگر تم نے ایسا کیا تو سمجھ لو تم خود ہی اپنے خلاف نا فرمانی کی واضح دلیل اللہ تعالی کو مہیا کر رہے ہو۔

آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا ٹھکانہ ہوگا، کافروں سے زیادہ منافقین جہنم کے عذاب سے دوچار ہوں گے، کیوں کہ ان کا جرم کافروں سے دوگنا ہے، انہوں نے صرف کفر کیا، مگر منافقوں نے ایمان کا دعوی کر کے کفر کیا ۔ یعنی دھوکہ بھی دیا۔ اس لیے عذاب بھی کافروں سے زیادہ ہوگا۔

ہاں سکرات سے پہلے کوئی بھی منافق صدق دل سے توبہ کر کے ایمان قبول کر لے اور عمل صالح کے ذریعے اپنے ایمان کا ثبوت دے دے تو اس کے خلوص کی قدر دانی کی جائے گی اور وہ مومن شمار ہوگا۔

لاَّ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوَء ِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعاً عَلِیْماً، إِن تُبْدُواْ خَیْْراً أَوْ تُخْفُوہُ أَوْ تَعْفُواْ عَن سُوَء ٍ فَإِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوّاً قَدِیْراً، إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُونَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُونَ أَن یُفَرِّقُواْ بَیْْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَیْقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیْدُونَ أَن یَتَّخِذُواْ بَیْْنَ ذَلِکَ سَبِیْلاً، أُوْلَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْناً، وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَلَمْ یُفَرِّقُواْ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ أُوْلَئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ أُجُورَہُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوراً رَّحِیْماً․(سورة النساء، آیت:148 تا152)

اللہ کو پسند نہیں کسی کی بری بات کا ظاہر کرنا، مگر جس پر ظلم ہوا ہو اور اللہ ہے سننے والا جاننے والاo اگر تم کھول کر کروکوئی بھلائی یا اس کو چھپاؤیا معاف کرو برائی کو تو اللہ بھی معاف کرنے والا، بڑی قدرت والا ہےo جو لوگ منکر ہیں اللہ سے اور اس کے رسولوں سے اور چاہتے ہیں کہ فرق نکالیں اللہ میں اور اس کے رسولوں میں اور کہتے ہیں ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور چاہتے ہیں کہ نکالیں اس کے بیچ میں ایک راہo ایسے لوگ وہی ہیں اصل کافر اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے ذلت کا عذابo اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور جدا نہ کیا ان میں سے کسی کو، ان کو جلد دے گا ان کے ثواب اور اللہ ہے بخشنے والا مہربانo

بلاضرورت عیب جوئی پر ناپسندیدگی

چوں کہ گزشتہ آیات میں منافقین کی بری خصلتوں اور عادتوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے، اس لیے اس موقع پر مومن کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ کسی شخص اور گروہ کی عیب جوئی کرنا غیبت کی ایک صورت ہے۔ اوراسلام اس اخلاقی برائیوں سے اپنے پیروکاروں کو روکتا ہے، آیت کریمہ ﴿لا یحبّ اللّٰہ الجھر بالسوء﴾ سے اسی شبہ کو دور کیا گیا ہے کہ اصولا کسی شخص اورگروہ کی عیب جوئی کرنا اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے، مگر کسی ظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور اس کے ظلم کو عیاں کر کے انصاف کی دہائی دینے کا عمل اس سے مستثنیٰ ہے، ظالم اور شریر قسم کے لوگوں کی حقیقت کو عیاں کرنا، انسانی سماج میں عدل کی روایت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اس لیے یہ گناہ نہیں، بلکہ اعلی اخلاقی جو ہر ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو بد دعا دے، ہاں! جس پر ظلم روا رکھا گیا ہو، اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ظالم کو بد دعا دے اور اگر مظلوم صبر وضبط سے کام لے تو افضل یہی ہے۔(تفسیر طبری، النساء، ذیل آیت: 138)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی چیز چور چراکر لے گئے، آپ ان کو بد دعا دینے لگیں، آں حضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا:کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہیں؟ ( سنن أبی داؤد، رقم الحدیث:4909) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں چور پر بد دعا کرنے کی بجائے یہ دعا پڑھنی چاہیے ”اللّٰھم أعنی علیہ واستخرج حقی منہ“یا اللہ! اس چور کے مقابلے میں میری مدد فرما اور میرا حق اس سے دلوا۔(تفسیر ابن کثیر، النساء، ذیل آیت:148)

غیبت اور اس کے متعلق وعید

غیبت کی تعریف خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

أتدرون ما الغیبة؟ قالو:اللّٰہ ورسولہ اعلم، قال: ذکرک اخاک بما یکرہ، قیل: أفرأیت إن کان فی أخی ما أقول؟ قال: إن کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وإن لم یکن فیہ فقد بھتہ.(صحیح مسلم، رقم الحدیث:2579)

”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا:اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:اپنے بھائی کا ایسا تذکرہ کرناجسے وہ ناپسند کرتا ہو (یہ غیبت ہے)۔عرض کیا گیا اگر وہ بات میرے بھائی میں پائی جاتی ہو جس کا میں تذکرہ کررہا ہوں (تب بھی وہ غیبت ہوگی)؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا:اگر وہ بات پائی جاتی ہو جس کا تم اظہار کر رہے ہوتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہوگی۔ اور اگر وہ بات اس میں نہ پائی جاتی ہو تب تو وہ بہتان ہے۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ :

مسلمان بھائی کی عادت وخلقت کے متعلق اس کی غیر موجودگی میں ایسا تذکرہ کرنا جسے وہ سن لے تو اسے برا لگے یہ غیبت ہے۔

غیبت حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے۔ ﴿وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضًا أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَن یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوہُ ﴾ ․( الحجرات:12)

احادیث مبارکہ میں اس بنا پر عذاب قبر کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔

جواز غیبت کی چند صورتیں

اس آیت کریمہ کے شان نزول میں طبری نے حضرت مجاہد تابعی سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص کسی کا مہمان بنا، لیکن انہوں نے اس کی ضیافت نہیں کی، جس کی شکایت اس نے لوگوں سے کی، لوگوں نے اسے عیب جوئی سمجھ کر اسے ڈانٹا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ عیب جوئی مذموم نہیں ہے۔ (تفسیر طبری، النساء، ذیل آیت:148)

ضیافت مہمان کا حق ہے۔ اس حق سے محروم ہونے پر اسے احتجاج کا حق حاصل ہے۔ اس بنا پر علما نے بعض مقام پر غیبت کو مباح قرار دیا ہے۔ چناں چہ لکھتے ہیں:”إعلم أن الغیبة وإن کانت محرمة فإنھا تباح فی احوال للمصلحة، والمجوّز لھا غرض صحیح شرعی لایمکن الوصول إلیہ إلا بھا؟“․( الاذکار للنووی ص:385)

”یاد رہے، غیبت اگر چہ حرام ہے، مگر بعض سورتوں میں مصلحت کی وجہ سے مباح بھی ہوجاتی ہے۔ اور اسے جائز قرار دینے والے کا مقصد صحیح اور شرعی ہو اور غیبت کے بغیر اس مقصد تک نہ پہنچا جا سکتا ہو۔“

یہ بھی واضح فرمایاکہ یہ غیبت جو شرعا مباح کے درجے میں بقدر ضرورت ہو۔ اس سے زائد جائز نہیں ہوگی۔ جواز غیبت کی کتنی صورتیں ہیں اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے صرف دو صورتیں بیان فرمائی ہیں حاکم کے سامنے ظالم کی غیبت، تاکہ ظلم دور کیا جاسکے۔ طلب فتوی کے لیے، تاکہ شریعت کا درست حکم معلوم ہوسکے۔ علامہ نووی رحمہ اللہ نے ریاض الصالحین میں ”باب بیان ما یباح من الغیبة“کا عنوان قائم فرما کر چھے مقام میں غیبت کے جواز پر دلائل قائم فرمائے ہیں۔ (جاری)

کتاب ہدایت سے متعلق