شرک اور کفر نا قابل معافی جرم ہیں

شرک اور کفر نا قابل معافی جرم ہیں

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہل سنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآء ُ وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا، اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ اِلَّا اِنٰثًا وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا، لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا، وَّ لَاُضِلَّنَّہُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَ لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا، یَعِدُہُمْ وَ یُمَنِّیْہِمْ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا،اُولٰٓئکَ مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْہَا مَحِیْصًا﴾․ (سورة النساء، آیت:116 تا121)

بے شک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے کسی کو اور بخشتا ہے اس کے سوا جس کو چاہے اور جس نے شریکٹھہرایا اللہ کا وہ بہک کر دور جا پڑاo اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے مگر شیطان سرکش کوo جس پر لعنت کی اللہ نے اور کہا شیطان نے کہ میں البتہ لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہo اور ان کو بہکاؤں گا اور ان کو امیدیں دلاؤں گا اور ان کو سکھلاؤں گا کہ چیریں جانوروں کے کان اور ان کو سکھلاؤں گا کہ بدلیں صورتیں بنائی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بناوے شیطان کو دوست اللہ کو چھوڑ کر تو وہ پڑا صریح نقصان میںo ان کو وعدہ دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ وعدہ دیتا ہے ان کو شیطان سو سب فریب ہےo ایسوں کا ٹھکانا ہے دوزخ اور نہ پاویں گے وہاں سے کہیں بھاگنے کو جگہo

شرک اور کفر نا قابل معافی جرم ہیں

جو شخص اللہ تعالی کی ذات وصفات میں کسی اور کو شریک ٹھہرائے اسے مشرک کہتے ہیں اور جو خدا کے وجود کا منکر ہو یا آپ علیہ السلام کی رسالت کا منکر ہو، اسے کافر کہتے ہیں۔ ہر مشرک کافر ہوتا ہے لیکن ہر کافر کا مشرک ہونا ضروری نہیں ہے۔ دونوں کی اخروی سزا ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔ مشرک کے لیے تو اس آیت میں فرمایا گیا:﴿إِنَّ اللَّہَ لَا یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ﴾․ (النساء، آیت:48) اور کافر کے لیے عدم مغفرت کا اعلان سورة محمد میں کیا گیا:﴿إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ مَاتُوا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَن یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ﴾․(محمد:34)

اسی طرح سورة آل عمران میں فرمایا گیا:﴿إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَن یُقْبَلَ مِنْ أَحَدِہِم مِّلْء ُ الْأَرْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدَیٰ بِہِ أُولَٰئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ﴾․(آل عمران:91)

ان آیات سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ شرک وکفر کے علاوہ ہر گناہ قابل بخشش ہے۔ مگر وہ اللہ تعالی کی مشیت پر موقوف ہے، اپنے فضل سے بلا سزا معاف فرما دیں یا سزا دے کر مغفرت کا پروانہ جاری فرمادیں، لیکن انجام کار ہر مومن اپنے حقیقی ٹھکانے جنت میں پہنچ کر ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوگا۔ البتہ کسی مومن کے متعلق قطعیت کے ساتھ جنتی کا حکم لگانا درست نہیں ہے۔

اس طرح کسی کافر کو موت سے پہلے قطعیت کے ساتھ جہنمی کہنا درست نہیں، جب تک کفر کی حالت میں موت نہ آجائے۔

شرک کے پجاریوں میں مونث بتوں کی اہمیت

شرک کی نحوست انسان کومتضاد رویوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس میں ذہنی سوچ وبچار، عقل وشعور کا مادہ ختم ہوجاتا ہے۔ عہد نبوی کی مشرک قوموں میں عورتوں کے متعلق گھٹیا فکر اور برے جذبات پائے جاتے تھے۔ اسے منحوس سمجھتے، اس کی پیدائش کو باعث عار سمجھتے، اس کی پرورش کو بوجھ سمجھتے، اس بنا پر زندہ درگور کرنے کے واقعات معاشرے میں عام تھے، مگر جن بتوں کی پوجا کرتے تھے،وہ عورتیں ہوتی تھیں، انہیں کے مجسمے بنا کر ان کی عبادت کی جاتی اور نذر و نیاز چڑھا یا جاتا، مرادیں مانگی جاتیں، قرآن کریم نے ان کی اسی بے عقلی کی طرف اشارہ فرمایا:﴿إِن یَدْعُونَ مِن دُونِہِ إِلَّا إِنَاثًا﴾، مشرکین عرب کے بت لات، مناة، عزی، وغیر دیویاں تھیں، جن کی مورتیاں بنا کر پوجا جاتا تھا۔

زمانہ حاضر کی مشرک قوم ہندومت میں بھی دیویوں کی بڑی اہمیت ہے۔ جیسے رام کی بیوی سیتا دیوی، کرشن کی محبوبہ رادھا دیوی، برہما کی بیوی سرسوی دیوی، شیو کی بیوی پاورتی دیوی، کرشن کی ملکہ خاص رکمنی، ان کے علاوہ کئی دیویاں ہیں، جو تقدس کی حامل ہیں۔

امام راغب نے فرمایا عرب کے مشرکین جمادات کو بھی اناث کہتے تھے، اللہ تعالی نے ان کو ان کی جہالت پر متنبہ کیا ہے کہ جمادات کو معبود بنا لیا، حالاں کہ وہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ، نہ کچھ کرسکتے ہیں۔(مفردات الفاظ القرآن، انث، ص:94)

ابلیس کا عزم

﴿وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا﴾…… ابلیس نے مخلوق خدا کو گم راہ کرنے کے انتہائی پختہ ارادے کے ساتھ پانچ عزائم کا اظہار کیا۔

﴿لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا، وَّ لَاُضِلَّنَّہُمْ﴾

ابلیس جب راندہ درگاہ ہوا تو غیض وغضب کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:

﴿أَرَأَیْتَکَ ہَٰذَا الَّذِی کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَیٰ یَوْمِ الْقِیَامَةِ لَأَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہُ﴾․ (الاسراء:62) میں اس کی اولاد کو گم راہ کروں گا۔

اپنے طریقہ واردات بیان کرتے ہوئے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْتَنِی لَأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ، ثُمَّ لَآتِیَنَّہُم مِّن بَیْنِ أَیْدِیہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْمَانِہِمْ وَعَن شَمَائِلِہِمْ وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ﴾․( الاعراف:17-16)

پوری انسانیت کو کفر اور گم راہی کی اندھیری گھاٹیوں میں دھکیلنا اس کا ہدف ہے، سوائے مخلص اہل ایمان کے، جو بفضل خداوندی اس کے وار سے محفوظ رہیں گے، اسی کا اعلان کرتے ہوئے اس نے کہا تھا: ﴿لَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ، إِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِینَ﴾․ (ص:83-82) لیکن لوگوں کی اکثریت پر اس کا وار چل گیا اور وہ اس کے دام تزویرمیں پھنس گئے اور آخرت کے ابدی عیش سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے:﴿وَلَٰکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُونَ﴾․ (غافر:59) ﴿وَمَا أَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ﴾ (یوسف:103)﴿وَإِن تُطِعْ أَکْثَرَ مَن فِی الْأَرْضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ ﴾․ (الانعام:116)

﴿لَاُمَنِّیَنَّہُمْ…﴾

ابلیس نے دوسرا عزم کیا کہ وہ انسانوں کو جھوٹی امیدیں دلا کر راہ راست سے بھٹکائے گا۔ چناں چہ دنیا کے کسی مشرک اور کافر سے ان کے افعال وکردار پر احتساب کا سوال قائم کیا جائے تو وہ فورا معبودان باطلہ کا حوالہ دے کر خود کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابلیس نے یہود کو انبیاء کی اولاد ہونے کی وجہ سے نسلی تفاخر میں مبتلا کیا اور اسی بنا پر مغفرت کی امید دلائی۔ نصاری کو امید دلائی کہ تم ابن اللہ کے پیروکار ہو، اس نے تمہارا کفارہ دے کر تمہاری بخشش کرالی ہے۔ اسی طرح بے عمل مومنوں کو خدا کی صفت رحمت ومغفرت کا حوالہ دے کر اکساتا ہے، حبیب خدا کے امتی ہونے کا حوالہ دے کر بد عملی پر ورغلاتا ہے، پھر ان کو جوا، قمار، سودی معاملات کے سبز باغ دکھا کر شکار کرتا ہے۔ خواہش نفس کی لذتوں سے آشنا کر کے بد اعتقادی اور بد عملی کے شکنجے میں کستا ہے اور غافل انسان اس امید پر بد عملی کے دلدل میں قدم رکھتا چلا جاتا ہے کہ خدا معاف کرنے والا ہے۔ نبی رحمت کی شفاعت ہمارا بیڑا پار لگادے گی۔ فلاں بزرگ اور فلاں ولی کی عقیدت ہمیں منزل تک پہنچا دے گی۔ پس یہی شیطانی آرزوئیں اور امیدیں ہیں جس میں اچھے بھلے دین دار بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔

﴿وَ لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ…﴾․

زمانہ جاہلیت میں مشرکین بتوں کے نام پر جانوروں کی نذر ونیاز چڑھاتے ۔ ایسے جانوروں کے کان کا ٹ کر وقف کر دیتے اور یہی کن کٹا جانور نذر کی علامت ہوتی تھی۔ گویا شیطان نے عزم کیا تھا میں لوگوں کو غیر اللہ کی نذر ونیاز میں مبتلا کر کے مشرک بناؤں گا۔

﴿ وَ لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ …﴾

ابلیس نے چوتھا عزم کیا میں لوگوں کو حکم دوں گا کہ وہ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیزوں میں تبدیلی کریں ۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالی نے کائنات اور اس میں ہر چیز چاند، ستارے سورج، دریا، سمندر، بروبحر، انس وجن، کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا لیکن شیطان نے ورغلا کر اللہ تعالیٰ کی بعض مخلوق کو بعض مخلوق کے لیے معبود بنا کر پیش کیا، یوں تخلیق کے اصل مقصد سے پھیر دیا، اب کوئی چاند وسورج کا پجاری ہے، کوئی آگ اور پانی کا پجاری ہے۔ کوئی بتوں اور جانوروں کو معبود بنا کر بھٹک رہا ہے۔

ابلیس کے اس قول کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو جس طرح پیدا فرمایا میں اس کو حکم دوں گا کہ وہ اس صورت وشکل میں تبدیلی اور تغییر لے آئے۔

شکل وصورت میں تبدیلی کی جو حدود شریعت نے بیان کی ہے اس سے تجاوز کرنا شیطان کی بات ماننا ہے۔ اس کی ایک صورت مرد کا عورت کی مشابہت اختیار کرنا اور عورت کا مرد کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اس پر آپ علیہ السلام نے لعنت فرمائی ہے:”لعن رسول اللّٰہ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال․“(صحیح البخاری، رقم الحدیث:5885)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ''لعن اللّٰہ الواشمات والمُسْتَوْشماتِ والنامِصَات والمُتَنَمِّصات والمُتَفَلِّجَاتِ للحسن، المغیّرات خلق اللّٰہ عزَّوجَلّ․“(صحیح البخاری، رقم الحدیث:5931)

”اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے جسم گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر، بال اکھیڑنے والیوں اور اکھڑوانے والیوں پر اور حسن کے لیے دانتوں کو کشادہ کر کے اللہ عزوجل کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر“۔

اس طرح مرد کا داڑھی منڈوانا، عورت کا سر کے بال منڈوانا، مرد وعورت کا جنس تبدیل کرانا، صنف مخالف کے طور طریقے کی چالچلنا تغییر لخلق اللہ میں داخل ہے۔

﴿وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً وَعْدَ اللّہِ حَقّاً وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ قِیْلاً،لَّیْْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ مَن یَعْمَلْ سُوء اً یُجْزَ بِہِ وَلاَ یَجِدْ لَہُ مِن دُونِ اللّہِ وَلِیّاً وَلاَ نَصِیْراً،وَمَن یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتَ مِن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلاَ یُظْلَمُونَ نَقِیْراً، وَمَنْ أَحْسَنُ دِیْناً مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْہَہُ للہ وَہُوَ مُحْسِنٌ واتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَاتَّخَذَ اللّہُ إِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً، وَللّٰہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَکَانَ اللّہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ مُّحِیْطاً﴾․(النساء:126-122)

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل کیے اچھے ان کو ہم داخل کریں گے باغوں میں کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں۔ رہا کریں ان میں ہمیشہ وعدہ ہے اللہ کا سچا اور اللہ سے سچا کونoنہ تمہاری امیدوں پر مدار ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر، جو کوئی برا کام کرے گاo اس کی سزا پائے گا اور نہ پاوے گا للہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گارo اور جو کوئی کام کرے اچھے ،مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان رکھتا ہو سو وہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور ان کا حق ضائع نہ ہوگا تل بھرo اور اس سے بہتر کس کا دین ہوگا جس نے پیشانی رکھی اللہ کے حکم پر اور نیک کاموں میں لگا ہوا ہےo اور چلا دینِ ابراہیم پر، جو ایک ہی طرف کا تھا اور اللہ نے بنا لیا ابراہیم کو خالص دوست اور اللہ ہی کا ہے جوکچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور سب چیزیں اللہ کے قابو میں ہیں۔

مرد وعورت کے اجر میں مساوات

اللہ تعالی نے مردو عورت کو انسان بنا کر اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز کیا، مگر دنیا کے کئی مذاہب میں عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا، چہ جائیکہ انہیں سماجی، معاشرتی انفرادی حقوق ادا کیے جائیں، اس کے رد عمل میں بعض جاہلانہ تہذیبوں نے عورت کو آزادی، حقوق اور مساوات کا جھانسا دے کر اس کے انسانی شرف اور وقار کو ملیامیٹ کردیا۔ انہوں نے آزادی اور حقوق کی آڑ میں عورت کو ”جنس ہوس“ بنا دیا۔ اسلام افراط وتفریط میں اعتدال کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ وہ عورت کو انسانی شرف سے مزین کرتا ہے، لیکن مرد وعورت کی صنفی تخلیق ایک جیسی نہیں ہے، اس لیے دونوں کے دائرہ کار کو بھی تقسیم کرتا ہے۔ جن کی صنفی تخلیق میں مساوات نہ ہو ان کے دائرہ عمل میں مساوات کا راگ الاپنا فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس طرح محض مرد ہونے کی بنا پر تمام مردوں میں عملی مساوات ناممکن ہے، اسی طرح محض انسانیت کے وصف میں اشتراک کی وجہ سے تمام مردوں اور عورتوں میں عملی مساوات ناممکن ہے اور خلاف حقیقت ہے۔ مساوات کے علم بردار بھی آج تک ایسے معاشرے کی عملی مثال لانے سے قاصر ہیں، اگر محض انسانیت ہی مساوات کا مدار ہے تو پھر کل کوئی حیوانیت کو بھی مدار مساوات بنا کر کتوں اور گدھوں کو انسانی حقوق دینے کا ڈھونگ رچانا شروع کردے گا۔ کیا کوئی سلیم العقل شخص اس پر سنجیدگی سے سوچے گا؟ اللہ نے دونوں کی جسمانی تخلیق میں فرق رکھ کر ان کے دنیاوی حقوق اور فرائض میں فرق رکھ دیا ہے۔

البتہ اُخروی اجر میں دونوں برابر کے شریک ہیں، جنت کی تمام نعمتوں میں خواتین برابر کی شریک ہیں، ان کو جس چیز کی خواہش ہوگی پوری کر دی جائے گی، ان کا حسن جنت کی حوروں سے زیادہ ہوگا ،ان کے شوہر خوب صورت اور انہیں کے دل دادہ ہوں گے، جس خاتون کو بیوگی کا غم اٹھاکر دوسرا شوہر کرنا پڑا اسے اختیار دیا جائے گا کسی ایک کو منتخب کرلے۔ ان کے ناز ونخرے ہوں گے، خدمت کے لیے حوریں ہوں گی اور غلمان ہوں گے۔

اس کے برعکس یہودیوں کے ہاں عورت کے اخروی اجر کا کیا تصور پایا جاتا ہے:ملاحظہ کریں، شمس تبریز خان لکھتے ہیں:

”وہ اپنی مجلسوں میں سوال کرتے تھے کہ کیا عورتوں کو بھی مردوں کی طرح خدا کی عبادت کا حق ہے؟ کیا وہ بھی جنت اور آسمانی بادشاہت میں داخل ہوسکتی ہیں؟ کیا اس میں انسان کی ابدی روح پائی جاتی ہے؟ یہ سوالات آگے بڑھ کر مستحکم عقیدہ کی شکل اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں ان کا یہ خیال بن گیا کہ وہ انسان نہیں، بلکہ خدمت کے لیے ایک انسان نما حیوان ہے لہٰذا اسے ہنسنے بولنے اور عام مواقع پر گفت گوسے بھی روک دینا چاہیے، اس لیے کہ وہ شیطان کا دروازہ ہے“۔ (مسلم پرسنل لاء اور اسلام کا عائلی نظام، ص:189-188)

غیر الہامی مذاہب کی تعلیمات میں بھی عورت کی نجات اور دوسرے عالم میں فرحت ومسرت کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا۔

جین مت، جو ہندوستان کا ایک مشہور مذہب ہے، ان کا عقیدہ ہے عورتیں موکش (نجات) حاصل نہیں کر سکتیں۔

ڈاکٹر مسز سٹیوسن کے بقول:
”جب تک وہ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے دوسرے جنم میں مرد بن کر نہ آئیں۔“ (اسلام میں عورت کی قیادت، ایم ایس ناز، ص:44 )

ہندومت، بدھ مت یہ وہ مذاہب ہیں جو دنیا میں عورت کو سراپا شر سمجھتے ہیں، وہ اپنے عقیدہ اجر میں جو ان کے نزدیک تناسخ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اس میں کیا بھلائی اور خیر خواہی کا سوچ سکتے ہیں۔(جاری)

کتاب ہدایت سے متعلق