عقیدہ الوہیتِ مسیح کا جائزہ

idara letterhead universal2c

عقیدہ الوہیتِ مسیح کا جائزہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہل سنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

عقیدہ الوہیّتِ مسیح کا تاریخی ارتقاء

1- عہد نامہ قدیم جو یہود ونصاری کی متفق علیہ کتاب ہے، اس کی ”کتاب تخلیق“ سے ”کتاب ملا کی“ تک کہیں پر بھی صراحت یا کنایہ کے ساتھ الوہیت مسیح علیہ السلام کا عقیدہ مذکور نہیں ہے، نہ ہی اس کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔

2- حضرت عیسی مسیح علیہ السلام خود یہود سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے ابتدائی پیروکار بھی یہودی تھے، آپ کی بعثت بھی یہود کے لیے ہوئی تھی، آپ اور آپ کے ابتدائی پیروکار یہودی عبادت خانے میں تمام مذہبی معاملات انجام دیتے تھے۔ آپ نے کبھی دعوی الوہیت نہیں کیا، نہ ہی آپ کے ابتدائی پیروکاروں نے آپ کو منصب الوہیت پر فائز کیا۔ آپ نے رفع سماوی سے قبل اپنے تمام دروس اور وعظ میں توحید کا اظہار فرمایا، مثلاً: انجیل مُرقس میں ہے:

1- ”اے اسرائیل سن! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ“۔ (مرقس)

انجیل متی میں ہے:
2- ”یسوع نے اس سے کہا اے شیطان! دور ہو، کیوں کہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر“۔ (متی، 4، 10)

3- اسی انجیل میں دوسرے مقام پر ہے:
”اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو، کیوں کہ تمہارا باپ ایک ہی ہے، جو آسمانی ہے“۔ (متی:23، 9)

4- انجیل یوحنا میں ہے:
”اگر کوئی مجھ سے محبت رکھے تو وہ میرے کلام پر عمل کرے گا اور میرا باپ اس سے محبت رکھے گا اور ہم اس کے پاس آئیں گے اور اس کے ساتھ سکونت کریں گے، جو مجھ سے محبت نہیں رکھتا وہ میرے کلام پر عمل نہیں کرتا اور جو کلام تم سنتے ہو وہ میرا نہیں، بلکہ باپ کا ہے، جس نے مجھے بھیجا“۔ (یوحنا: 14، 23، 24)

موجودہ دنیائے مسیحیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سب سے معروف شخصیت سینٹ پال (St-paul) کی ہے، جسے تثلیث کا موجد بھی کہا جاتا ہے، اس نے بھی صاف الفاظ میں حضرت مسیحعلیہ السلام کی الوہیت کا اقرار کیا اور نہ ہی اس کی دعوت دی، بلکہ کرنتھیوں کے نام اپنے مکتوب میں لکھتا ہے:
”سوا ایک کے اور کوئی خدا نہیں ۔ اگر چہ آسمان وزمین میں بہت سے خدا کہلاتے ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک تو ایک ہی خدا ہے، یعنی باپ جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں اور ہم اسی کے لیے ہیں“۔ (کرنتھیوں کے نام پولس رسول کا پہلا خط: 8، 4)

اِفسیوں کے نام خط میں لکھا ہے:
ایک ہی خداوند ہے، ایک ہی ایمان، ایک ہی بپتسمہ اور سب کا خدا اور باپ ایک ہی ہے، جو سب کے اوپر اور سب کے درمیان اور سب کے اندر ہے“۔ (افسیوں کے نام پولس رسول کا خط: 4، 5، 6)

عبرانیوں کے نام خط میں آپ کی بشریت کا اعلان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اسی سے دعائیں اور التجائیں کیں، جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے سبب سے اس کی سنی گئی“۔(عبرانیوں کے نام خط: 5، 7)

کرنتھیوں کے نام خط میں لکھا:
”ہاں وہ کمزوری کے سبب سے مصلوب کیا گیا، لیکن خدا کی قدرت کے سبب زندہ ہے“۔ (کرنتھیوں کے نام پولس رسول کا دوسرا خط: 13، 4)

اناجیل اور پولس رسول کی تعلیمات میں حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور ان کی تثلیث کا عقیدہ مخفی اور غیر واضح ہے۔

موٴرخین کے نزدیک مسیحیت میں شرکیہ عقائد تیسری صدی کے بعد پیدا ہوئے۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات دنیائے مسیحیت میں کئی فلسفیانہ مباحث میں الجھ کر حقیقت سے بہت دور ہوتی چلی گئی، پھر ہر فرقہ اپنے موقف کو مضبوط اور مدلل کرنے کے لیے عہد نامہ جدید میں تمثیلی اور کنائی عبارتوں کو اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق ڈھال کر پیش کرنے لگا۔

فرقہ یعقوبیہ کا دعوی الوہیتِ عیسی مسیح علیہ السلام

یہ فرقہ یعقوب نامی شخص کی طرف منسوب ہے۔ اس کا پوپ مصر میں رہتا تھا، جو 500ء سے کچھ قبل پیدا ہوا، اس کا عقیدہ تھا کہ جس طرح مسیح دو جوہروں ”لا ہوتی اور ناسوتی“ سے مل کربنا ہے، اسی طرح وہ اقنوموں پر بھی مشتمل ہے۔ یہ عقیدہ دیگر مسیحیوں کے خلاف ہے۔ کیوں کہ وہ مسیح علیہ السلام کو دو جوہر تومانتے ہیں، مگر دو اقنوم نہیں مانتے۔ اس فرقے کے لوگوں نے بعد میں غلو کر کے یہ کہا کہ مسیح ہی اللہ ہے، جو انسانی شکل میں ظاہر ہوا، اس عقیدے کو God incarnate کہا جاتا ہے، چناں چہ عیسائیوں کا فرقہ Jacobites شدت سے اس عقیدے کا قائل رہا ہے۔

الوہیت مسیح کے دلائل کا تجزیہ

1- اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو بلا باپ پیدا ہونے پر خدا ٹھہرایا جائے تو پھر حضرت حواء علیہا السلام بھی بغیر ماں کے پیدا ہوئی تھیں اور ان سے بڑھ کر غیر معمولی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی ہے، جو بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے۔ کیا ان کو بھی مقام الوہیت دینا درست ہوگا؟؟

2- اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو مُردوں کو زندہ کرنے کی وجہ سے خدا ٹھہرایا جائے تو بحوالہ بائبل حضرت الیاس علیہ السلام نے بھی ایسا کیا ہے۔

3- اگر معجزات کی وجہ سے خدا ہیں تو بحوالہ بائبل حضرت ایشع علیہ السلام کے بہت سے معجزات ہیں، بلکہ معجزات کو دلیل الوہیت کہنا اس وجہ سے بھی غلط ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنا قول ہے:
”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا، بلکہ ان سے بھی بڑے کام کرے گا“۔ (یوحنا: 14: 12)

بلکہ از روئے بائبل معجزہ، نبوت یا خدائی کی دلیل نہیں ہے، انجیل متی میں مسیح کا فرمان ہے:
”کیوں کہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گم راہ کرلیں“۔ (متی: 24، 24)

4- الوہیت مسیح پر ایک دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ فرمایا ” میں اور باپ ایک ہیں“۔ (یوحنا: 10، 30) لہٰذا مسیح ہی خدا ہیں۔ یہ دلیل بھی اس لیے درست نہیں ہے کہ مندرجہ بالا سطور میں سیاق وسباق کی رو سے اس جملے کا مطلب یہ ہے مسیح اور خدا خیالات اور مقاصد میں ایک ہیں ۔ حضرت یسوع مسیح علیہ السلام اپنے قول وفعل میں ممکمل طور پر فرمانِ خداوندی کے تابع ہیں، اس لیے ان کی رضاعین رضائے خداوندی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مسیح علیہ السلام اور خدا وجود میں ایک ہیں۔ اس طرح کی تمثیلات میں بائبل کی کئی عبارتیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ بائبل کتاب پیدائش میں ہے: ”اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے ملا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے“۔ (پیدائش: 2، 24)
دیکھیے اس عبارت میں میاں بیوی کو ایک تن کہا گیا ہے اور ایک تن سے مراد ہر گز یہ نہیں ہے کہ دونوں ایک ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب ہے مرد بیوی سے دیگر رشتہ داروں کی بنسبت ایسی شدید محبت کرے گا کہ یوں محسوس ہوگا دونوں ایک ہیں۔ دکھ درد اور ہم آہنگی میں ایسا اتفاق ہوگا کہ یوں محسوس ہوگا گویا ایک جسم ہے۔ کتاب پیدائش میں ایک مقام پر ہے: ”خداوند نے کہا دیکھو !یہ سب لوگ ایک ہیں“۔ یہاں پر بھی سب لوگوں کو ایک کہنا مقصد اور مشن کے اعتبار سے ہے، یہ ہرگز مراد نہیں کہ سب آدمی ایک آدمی بن گئے تھے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے مخلوق اور بشر ہونے کے دلائل

حضرت مسیح علیہ السلام ایک عورت کے پیٹ سے ہوئے ، حالاں کہ خدا نہ پیدا ہوتا ہے، نہ اس سے جنا جاتا ہے ﴿لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ﴾ (الاخلاص: 3) آپ نے ایک عورت کے رحم میں مردانہ اور انسانی شکل وصورت پائی، حالاں کہ خدا خود رحم مادر میں شکل وصورت بناتا ہے۔ ﴿ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِیْ الأَرْحَامِ کَیْْفَ یَشَاءُ﴾(آل عمران: 6) انجیل میں آپ کا شجرہ نسب موجود ہے۔ آپ تمام انسانی اوصاف سے متصف تھے۔ کھاتے تھے پیتے تھے۔ سوتے تھے، گرمی اور سردی محسوس کرتے تھے، حتی کہ آپ کو شیطان سے بھی آزمایا گیا، مثلا: انجیل متی میں ہے: ”جب ابلیس حضرت مسیح علیہ السلام کو آزماتا پھرتا تھا تو اسے ایک اونچے پہاڑ پر لے جا کر دنیا کی سب سلطنتیں اور شان وشوکت اسے دکھائی اور کہا اگر تو مجھے جھک کر سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں گا۔ مسیح علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:

”اے شیطان! دور ہو، کیوں کہ لکھا ہے تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر“۔(انجیل متی: 4،11)

جسے شیطان آزماتا ہو اسے خدا کیسے کہا جاسکتا ہے؟

کتاب مقدس میں خدا کی صفات میں لکھا ہے: 1-”خدا انسان نہیں“۔ (کتاب گنتی: 23، 19) 2- ”اس کا تخت قدیم سے قائم ہے اور وہ ازل سے ہے“۔ (زبور: 93، 2) 3- ”اسے بھوک نہیں لگتی“۔ (زبور: 5، 12)

4- ”خدواند خدائے ابدی وتمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا“۔ (یسعیاہ: 40،28)

5- ”میں خدائے قادر مطلق ہوں“۔ (پیدائش: 35،11)

6- ”وہ لا تبدیل ہے، اس کے برس لا انتہا ہیں“۔ (زبور: 102، 27)

کیا کتاب مقدس میں بیان کردہ خدا کی یہ مذکورہ صفات حضرت مسیح علیہ السلام میں پائی جاتی تھیں؟ ہر گز نہیں۔ وہ انسان تھے، ازل سے نہیں تھے، وہ تھکتے تھے، چناں چہ انجیل یوحنا میں ہے: ”یسوع سفر سے تھکا ماندہ ہو کر اس کنویں پر یوں ہی بیٹھ گیا“۔(یوحنا: 4، 6) اپنے دشمنوں کی اذیت سے بچنے پر قدرت نہیں رکھتے تھے اور اپنی دعوت کو امت میں منوانے کی قدرت نہیں رکھتے تھے ۔ بیٹا باپ کے مماثل اور مشابہ ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ اس کے مماثل اور مشابہ کوئی نہیں، چہ جائیکہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ تعالی کے متساوی ہوں، اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ علام الغیوب ہے، اگر حضرت عیسی مسیح اِلہ ہوتے تو کوئی چیز ان سے مخفی نہ ہوتی، خود حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے متعلق فرمایا کہ وہ محض اللہ کے فرستادہ اور نبی ہیں۔

1- میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کرسکتا، جیسا سنتا ہوں، عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے؛ کیوں کہ میں اپنی مرضی نہیں، بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔ (یوحنا: 5، 30)

2- کیوں کہ میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا، بلکہ جس نے مجھے بھیجا اسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ کیا کہوں اور کیا بولوں اور میں جانتا ہوں کہ اس کا حکم ہمیشہ کی زندگی ہے، پس جو کچھ میں کہتا ہوں جس طرح باپ نے مجھ سے فرمایا ہے اسی طرح کہتا ہوں۔(یوحنا: 12، 49، 50)

حضرت عیسی علیہ السلام کی بشریت عہد نامہ جدید کی روشنی میں

اناجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کے حالات پڑھنے سے ہی ان کی بشریت نمایاں ہوکر سامنے آجاتی ہے۔

1- انجیل متی میں آپ کا نسب نامہ یوں لکھا ہے: ”یسوع مسیح ابن داوٴد ابن ابراہیم کا نسب نامہ“۔ (متی : 1، 1)

2- یسوع مسیح پیدا ہوئے اور آٹھویں دن ان کا ختنہ ہوا۔ (لوقا: 2، 7 – 2،21)

3- یسوع مسیح علیہ السلام کو پیدا ہونے کے بعد بادشاہ قتل کرنا چاہتا تھا، مگر والدین انھیں لے کر مصر چلے گئے، جب تک بادشاہ زندہ تھا وہیں رہے، خوف کی وجہ سے چھپے رہے۔ (متی: 2، 13)

4- ان کی نشو نما عام انسانوں کی طرح آہستہ آہستہ ہوئی۔ (لوقا: 4، 2)

5- جب لوگوں کو آپ نے درس وتعلیم دینا شروع فرمائی اس وقت آپ کی عمر تیس برس تھی۔ (لوقا: 3، 23)

6- شیطان حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کی چالیس دن تک آزمائش کرتا رہا۔ (لوقا: 4، 1-2)

7- سفر کی وجہ سے انہیں تھکاوٹ لاحق ہوئی۔ اور پیاس بھی لگی۔ (انجیل یوحنا: 4، 6-9)

8- لعرر (نامی شخص) کی موت پر یسوع مسیح علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ (یوحنا: 11،35)

9- ایک مرتبہ یسوع مسیح علیہ السلام نے فرمایا: اب میری جان گھبراتی ہے پس میں کیا کہوں؟ (یوحنا: 12،27)

10- گرفتاری سے قبل یسوع مسیح علیہ السلام نہایت غمگین اور بے قرار تھے۔ (متی: 26، 36-39)

11- زندگی کے آخری دن یسوع مسیح نے اپنے دوبارہ آنے کے وقت سے لا علمی ظاہر فرماکر اپنی بشریت کا واضح اعلان فرمادیا۔

”لیکن اس دن یا اس گھڑی کی بات کوئی نہیں جانتا، نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا، مگر باپ“۔ (مرقس:13، 32)

12- صلیب پر جان دیتے ہوئے یسوع مسیحعلیہ السلام انتہائی کس مپرسی میں فریاد کرتے رہے۔

”ایلی ایلی، لما شبقتنی“ اے میرے خدا، اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ (متی 27، 46)

13- حضرت یسوع مسیح علیہ السلام نے یوحنا (حضرت یحییٰ علیہ السلام) سے بپتسمہ لیا۔ حالاں کہ بپتسمہ گناہوں کی معافی کے لیے ہوتا ہے۔ (متی 3،13، متی:1، 5)

3- یسوع نے پکار کر کہا جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ مجھ پر نہیں، بلکہ میرے بھیجنے والے پر ایمان لاتا ہے۔ (یوحنا: 12، 44) یہ ساری انسانی صفات ہیں۔ ان صفات کا متحمل معبود بر حق نہیں ہوسکتا۔

یہود ونصاری کے دعوائے محبوبیت کی تردید

﴿وقالت الیھود والنصاری نحن أبناء اللّٰہ وأحباوٴہ﴾

یہود ونصاری خود کو اللہ کی محبوب قوم سمجھتے ہیں، یہود کا نسلی تفاخر ان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ یہ غلط فہمی انبیا کی اولاد ہونے کی وجہ سے اور اللہ تعالی کی غیر معمولی مہربانیوں کی وجہ سے ان میں پیدا ہوئی۔ نصاری سمجھتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے عیسی مسیح کے عبادت گزار ہیں، اس لیے اللہ کے محبوب ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام نے ہماری طرف سے گناہوں کا کفارہ دے کر ہمیں پاک وصاف کردیا ہے۔حالاں کہ اللہ تعالی نے یہود ونصاری پر جو غیر معمولی عنایتیں فرمائی تھیں اس کی وجہ عقیدہٴ توحید تھا۔ اور جب انہوں نے عقیدہٴ توحید کو چھوڑا، کفر وشرک اختیار کیا تو ان پر اپنا عذاب مسلط کیا۔ اگر نسلی اور قومی بنیاد پر اللہ کی رحمتوں کی مستحق ہوتے تو پھر ہمیشہ عیش وعشرت اور امن وسکون سے رہتے، کبھی عذاب الٰہی کے کوڑے ان پر نہ برستے۔ اس لیے یاد رکھو! قوم ونسل کی حیثیت سے تم نہ ہی اللہ کی اولاد ہو اور نہ ہی اللہ کے محبوب ہو، بلکہ عام انسانوں کی طرح انسان ہو، جنہیں اللہ تعالیٰ فرماں برداری پر نوازتا ہے، نافرمانی پر عذاب سے دوچار کرتا ہے۔ پوری کائنات اس کے دست قدرت میں ہے، وہ اس کا مالک ہے، وہ جس کے ساتھ جیسا چاہے تصرف کرسکتا ہے اور اس کا حق رکھتا ہے، کسی کو اس سے پوچھ تا چھ کی مجال نہیں ہے۔

حضور کی بعثت اہل کتاب کے لیے اتمام حجت ہے

﴿یا أہل الکتب قد جاء کم…﴾

اہل کتاب کے آخری نبی حضرت عیسی علیہ السلام تھے۔ یہود حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے، ان کے نزدیک اسرائیلی سلسلے کے آخری نبی حضرت مَلا کی تھے۔ مگر یہود کے انکار سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کے بعد ایک طویل عرصے تک سلسلہ نبوت میں انقطاع آگیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم فرمایا اور آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اب اہل کتاب کو اپنی گم راہیوں پر یہ عذر پیش کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس جنت کی خوش خبری اور جہنم سے ڈرانے والا کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ اب ان کے پاس حضور علیہ السلام آچکے ہیں، ان پر ایمان لا کر اپنی گم راہیوں سے باز آجائیں۔

حضرت عیسی علیہ السلام اور حضور علیہ السلام کا درمیانی عرصہ کتنا ہے؟

فترة من الرسل… کسی چیز کا اثر ختم ہوجانے کو فترت کہتے ہیں چناں مفردات الفاظ القرآن میں ہے: الفتور سکون بعد حدّة، ولین بعد شدة، وضعف بعد قوّة․ (مفردات الفاظ القرآن الکریم: للراغب الاصفہاني، مادّہ: ف ت ر) یعنی تیزی کے بعد ٹھہراوٴ، شدت کے بعد نرمی اور طاقت کے بعد کم زوری کو فترت کہتے ہیں۔ اور اصلاحِ شریعت میں دو انبیاء علیہم السلام کے درمیانی زمانے کو زمانہ فَترت کہتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حضرت عیسی بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی (باپ شریک) بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:3446، صحیح مسلم رقم الحدیث: 3368)

علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی اُبی مالکی لکھتے ہیں:
علامہ خطابی نے کہا ہے یہ حدیث ان لوگوں کے موقف کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور ہمارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان رسل اور انبیاء ہیں اور حواریین بھی نبی تھے، جو حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد لوگوں کی طرف بھیجے گئے اور یہ اکثر نصاری کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں امام بخاری نے سلمان سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور ہمارے نبی کے درمیان زمانہ فترت چھ سو سال ہے۔ (اکمال اکمال المعلم: ج 8/611، بیروت)

علامہ طبری رحمة اللہ علیہ نے قتادہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان زمانہ فترت چھے سو سال ہے، (جامع البیان، المائدہ، ذیل آیت: 19) اور امام بغوی نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے پانچ سو ساٹھ سال، مَعْمَرْ اور کلبی کا قول ہے پانچ سو چالیس سال۔ (تفسیر بغوی، المائدہ، ذیل آیت: 19)

کتاب ہدایت سے متعلق