عمره كا احرام باندهنا اور پھر عمره ادا كئے بغیر مدینہ منورہ جانے کا حکم

عمره كا احرام باندهنا اور پھر عمره ادا كئے بغیر مدینہ منورہ جانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

میں اور میری اہلیہ حج پر جانا ہے۔ پہلے ہمارا ٹورآپریٹر ہمیں مدینہ پاک لے کر جارہے تھے۔ سب معاملات اور پیسے کی ادائیگی کے بعد اب ان کا کہنا ہے کہ سعودی گورنمنٹ مدینہ منورہ کی فلائٹس نہیں آپریٹ کریں گے اور ہمیں جدہ کے ذریعے مکہ مکرمہ ایک دن کے لئے جارہے ہیں اور ایک دن بعد وہاں سے مدینہ منورہ۔
چوں کہ وہ دن اہلیہ کے ایام کے ہیں تو ہم نے ٹور آپریٹر سے بات کی کہ ہمیں جدہ مدینہ منورہ جانے دیں تو ان کا کہنا ہے اس بار سختی بہت زیادہ ہے اور بغیر گروپ انفرادی کسی کو کہیں جانے کی اجازت نہیں ہوگی سعودی گورنمنٹ سے۔
اور  ایک دن بعد مدینہ کے لیے روانگی ہے۔ ہم نے بات کی پھر اگر مجبوری ہوئی تو کچھ دن خاتون مکہ میں ہمارے خرچہ پر رہ جائیں تا کہ عمرہ ادا ہوجائے ۔ تو ان کا کہنا ہے کوشش ہوگی لیکن اگر گورمنٹ کی سختی ہوئی تو گروپ کے ساتھ جانا پڑھے گا اور پھر واپسی حج سے ایک دن قبل ہی ہوگی یعنی دس دن بعد۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اگر ہمیں مجبوری میں بغیر عمرہ کے مکہ مکرمہ سے جانا پڑھے۔ تو کیا گنجائش ہے کیوں کہ آگے واپسی پر حج ہوگا۔اس میں کیا صورت ہوگئی گنجائش کی؟کیا ہم اس مجبوری میں میری اہلیہ بغیر احرام کے بھی داخل ہوسکتی ہے؟
اصل سوال کی صورت یہ ہے کہ:

عمرہ کا احرام باندھنا اور پھر عمرہ ادا کئے بغیر مدینہ منورہ جانے کا حکم اور اسی طرح بیوی کا احرام کے بغیر حرم شریف جانے کا حکم؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کی اہلیہ حیض کی حالت میں عمرے کا احرام باندھے، اور عمرہ ادا کئے بغیر مدینہ منورہ چلی جائے تو پھر مدینہ منورہ سے واپسی پر عمرہ ادا کرے، اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو بغیر طواف اور سعی کئے احرام کھول دے، اور ایک بکرا بطور دم ذبح کرے۔

نیز اگر عورت ایام میں ہو تو وہ پہلے حل یعنی مسجد عائشہ جانے کا ارادہ کرے، اور پھر وہاں سے مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کرے تو اس کی وجہ سے اس پر دم لازم نہیں ہوگا۔

لما في البخاري:
”عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنها قالت: قدمت مكة وأنا حائض ولم أطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة، قالت: فشكوت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:˒˒افعلى كما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري˓˓“. (كتاب الحج، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت: رقم الحديث: ١٦٥٠، ص: ٢٦٧،دار السلام للنشر والتوزيع)
وفي الترمذي:
”عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما – رفع الحديث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم:˒˒أن النفساء والحائض تغتسل وتحرم وتقضي المناسك كلها غير أن لا تطوف بالبيت حتى تطهر˓˓“.(كتاب الحج، باب ما جاء ما تقضي الحائض من المناسك: رقم الحديث: ٩٤٥، ص: ٣٠٤،دار السلام)
وفي غنية الناسك:
”وحيضها لا يمنع نسكا إلا الطواف، فهو حرام من وجهين: دخولها المسجد، وترك واجب الطهارة، فلو حاضت قبل الإحرام اغتسلت وأحرمت، وشهدت جميع المناسك إلا الطواف والسعى، لأنه لا يصحبدون الطواف، ولا يلزمها دم لترك الصدر وتأخير الزيارة عن وقته لعذر الحيض والنفاس“. (باب في الإحرام، فصل في إحرام المرأة: ص: ٩٤، ٩٥،إدارة القرآن)
وفيہ أیضاً:
”آفاقي مسلم مكلف أراد دخول مكة أو الحرم، ولو لتجارة أو سياحة، وجاوز آخر مواقيته غير محرم، ثم أحرم أو لم يحرم، أثم ولزمه دم“.(باب مجاورة الميقات بغير إحرام، فصل في مجاوزة الآفاقي وقته: ص: ٦٠،إدارة القرآن).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

فتویٰ نمبر:173/268

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی