خریدار کی طرف سے قیمت کی ادا ئیگی کرکےپھر زائد قیمت وصول کرنا

خریدار کی طرف سے قیمت کی ادا ئیگی کرکےپھر زائد قیمت وصول کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس صرف دو لاکھ روپے ہیں اور وہ ایک گاڑی کمپنی سے چھ لاکھ روپے میں خریدنا چاہتا ہے اور کمپنی اپنے اصول کے مطابق قسطوں پر گاڑی نہیں دیتی، اب اس کمپنی اور خریدار کے درمیان دوسری کمپنی آتی ہے اور اس خریدار سے کہتی ہے کہ آپ کی جگہ چھ لاکھ روپے ہم ادا کریں گے اس شرط پر کہ آپ ہمیں قسط وار ساڑھے سات لاکھ روپے تین سال میں ادا کریں گے، تو آیا یہ صورت جائزہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں ہے تو جواز کی کیا صورت ہے؟

جواب

صورتِ مسؤلہ میں مذکورہ معاملہ سودی ہے، اس لیے کہ دوسری کمپنی خریدار کے طرف سے جو چھ لاکھ (۶،۰۰،۰۰۰)روپیہ گاڑی کے بدلے میں دے رہی ہے وہ بطور قرض دے رہی ہے جو خریدار کے ذمے قرض ہے،لہٰذا اس پر ڈیڑھ لاکھ روپیہ زائد لینا قرض پر منافع لینا ہے اور یہ صریح سود ہے جو کہ شرعاً حرام اور ناجائز ہے،البتہ جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دوسری کمپنی خود گاڑی چھ لاکھ روپیہ نقد پر خرید کر پھر قسط وار ساڑھے سات لاکھ روپیہ پر دوسرے شخص کو فروخت کردے اور قسطوں کی تأخیر پر کوئی جرمانہ نہ لگایا جائے اور انشورنس بھی لازم نہ ہو۔

''لایجوزأن یرد المقترض إلی المقرض إلاما اقترضہ منہ أومثلہ تبعا للقاعدۃ الفقھیۃ القائلۃ،''کل قرض جر نفعا فھو ربا''.(فقہ السنۃ،القرض: ٣/١٤٧،١٤٨،دارالکتاب العربي،بیروت)

''لقولہ علیہ السلام:''کل قرض جر منفعۃ فھو ربا''.أي في حکم الربا،فیکون عقد القرض باطلا،فإذا شرط في عقدہ ما یجلب نفعا إلی المقرض من نحو زیادۃ قدر أو صفۃ،بطل''.(فیض القدیر،رقم الحدیث ٦٣٣٦:٩/٤٤٨٧، نزار مصطفی الباز)

''ولو باعہ المشتری من رجل أو وھبہ ثم اشتراہ البائع من ذالک الرجل یجوز لاختلاف الأسباب بلاشبھۃ وبہ تختلف المسببات''.(فتح القدیر، باب البیع الفاسد:٦/ ٤٣٣، مصر)

''وَلَوْ بَاعَ الْمُشْتَرِی مِنْ رَجُلٍ ثُمَّ إنَّ الْبَائِعَ الْأَوَّلَ اشْتَرَاہُ مِنْ الْمُشْتَرِی الثَّانِي بِأَقَلَّ مِمَّا بَاعَ جَازَ''.(الھندیۃ، کتاب البیوع:٣/١٣٢،ماجدیۃ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی