کسی شرعی فتوی کے بارے میں دل میں سوچنا یا زبان سے کہنا کہ اگر یوں حکم آیا تو عمل نہیں کروں گا

کسی شرعی فتوی کے بارے میں دل میں سوچنا یا زبان سے کہنا کہ اگر یوں حکم آیا تو عمل نہیں کروں گا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گر کسی نے شرعی فتوی معلوم کیا، لیکن دل میں سوچا یا زبان سے کہا: اگر یوں حکم آیا تو عمل نہیں کروں گا، ایسا کہنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تمام مسلمان شریعت کے احکام پر عمل کرنے کے پابند ہیں، کسی حکم شرعی کے بارے میں زبان سے یہ کہنا کہ اگر یوں حکم آیا، تو عمل نہیں کروں گا یہ طریقہ جاہلیت ہے، لہذا ایسی باتیں کرنے والا توبہ واستغفار کرے اور اس کو آئندہ کے لیے ایسی بات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے اور اگر دل میں صرف ایسا خیال آیا، تو وہ معاف ہے اور اس پر کوئی گرفت نہیں۔

لما في تفسیر ابن کثیر:
’’(وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا) أي: مھما أمرکم بہ فافعلوہ، ومھما نھاکم عنہ فاجتنبوہ، فإنہ إنما یأمر بخیر وإنما ینھی عن شر‘‘.
’’ وقولہ: (واتقوا اللہ إن اللہ شدید العقاب) أي: اتقوہ في امتثال أوامرہ وترک زواجرہ؛ فإنہ شدید العقاب لمن عصاہ وخالف أمرہ وأباہ، وارتکب ما عنہ زجرہ ونھاہ‘‘.(سورۃ الحشر، ٤/ ٤٣١، ط: دار السلام)
وفي مرقاۃ المصابیح:
’’وعن عبد اللہ بن عمرو رضي اللہ عنہماقال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:˒˒لا یؤمن أحدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جيء لما جئت بہ من السنۃ الزھراء، والملۃ النقیۃ البیضاء، حتی تصیر ھمومہ المختلفۃ وخواطرہ المتفرقۃ التي تنبعث عن ھوی النفس ومیل الطبع ھما واحدا یتعلق بأمر ربہ، واتباع شرعہ تعظیما لہ وشفقۃ علی خلقہ.... فلا یمیل إلا بحکم الدین، ولا یھوی إلا بأمر الشرع فھو المؤمن الفرید الکامل الوحید الذي یقبل منہ التوحید، ومن أعرض عنہ متبعا لما ھواہ مبتغیا لمرضاہ فھو الکافر الخاسر في دنیاہ وعقباہ‘‘.(کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ١/ ٤١٣، ٤١٢:رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:175/136