بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدرسے کے بچوں کو مسجد کا پانی کس حد تک استعمال کرنے کی اجازت ہے

مدرسے کے بچوں کو مسجد کا پانی کس حد تک استعمال کرنے کی اجازت ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مدرسے کے بچوں کو مسجد کا پانی استعمال کرنے کی کس حد تک اجازت ہے کیا اس پانی پر محلے والوں کا حق مقدم ہے یا پھر طلباء کرام کا؟ وضاحت فرما دیجیے۔

جواب

مسجد کے حوض کا پانی صرف وضوء کے لیے بقدر ضرورت استعمال کرنے کی اجازت ہے ، ہاں اگر وقف کرنے والے اور چندہ دینے والوں کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً اجازت ہو تو دوسری ضروریات کے لیے بقدر ضرورت استعمال کرنا جائز ہے۔

لمافي الدر مع الرد:

لا يجوز الوضوء من الحياض المعدة للشرب في الصحيح، ويمنع من الوضوء عنه فيه وحماه لأهله، إن مأذونًا به جاز، وإلا لا.

قوله: (في الصحيح) وعن ابن الفضل أنه يجوز التوضئ منه والموضوع للوضوء لا يباح منه الشرب. بحر. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 9/504، رشيدية)

وفي البحر الرائق:

ولا بأس أن يشرب من الحوض والبئر ويسقى دابته ويتوضأ منه، وفي التوضوء من السقاية إذا اتخذها للشرب اختلاف المشايخ. ولو اتخذها للتوضوء لا يجوز الشرب منه بالإجماع. (كتاب الوقف، فصل في أحكام المساجد: 5/427، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر : 154/106،109