بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فرض،واجب،سنت،حرام،مکروہ اور مباح وغیرہ کی تعریف

فرض، واجب، سنت،حرام،مکروہ اور مباح وغیرہ کی تعریف

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ فرض، واجب، سنت، مستحب، مباح، حرام ، مکروہ تحریمی، تنزیہی، خلاف اولی میں کیا فرق ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی دلائل کے ساتھ تحقیقی جواب دے کر عند اللہ مأجور ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ وہ احکام الہٰیہ جوبندوں کے افعال سے متعلق ہیں ان کی آٹھ قسمیں ہیں:

(۱) فرض:

فرض اسے کہتے ہیں جو قطعی دلیل سے ثابت ہو، بلا عذر اس کا تارک مستحق عذاب اور فاسق اور اس کا منکر کافر ہے۔

فرض کی دو قسمیں ہیں: ۱) فرض عین، ۲) فرض کفایہ۔

فرض عین: وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری ہو جیسے صلوات خمسہ اور صلوة جمعہ وغیرہ۔

فرض کفایہ: وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری نہیں ہو، بلکہ بعض لوگوں کے ادا کرنے سے وہ ادا ہوجائے، اور اکر کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گنہگار ہوں جیسے صلوة جنازہ وغیرہ۔

(۲) واجب:

واجب اسے کہتے ہیں جو ظنی دلیل سے ثابت ہو، اس کا بلا عذر تارک فاسق اور مستحق عذاب ہے بشرطے کہ بغیر کسی تاویل اور شبہ کے چھوڑ دے، اس کا منکر کافر نہیں فاسق ہے۔

(۳) سنت:

سنت اسے کہتے ہیں جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہو، سنت کی دو قسمیں ہیں: ۱) موٴکدہ، ۲) غیر موٴکدہ۔

سنت موٴکدہ: وہ ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہمیشہ کیا ہو، اور بلا عذر کبھی ترک نہ کیا ہو، لیکن ترک کرنے والے پر نکیر بھی نہ کی ہو، اس کو بلا عذر ترک کرنے کا عادی اور اس کا منکر فاسق اور گنہگار ہے، ہاں اگر کبھی چھوٹ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

یاد رہے کہ ترک سنت کا گناہ واجب سے قدرے کم ہے۔

سنت موٴکدہ کی پھر دو قسمیں ہیں: ۱) سنت عین، ۲) سنت کفایہ۔

سنت عین: وہ ہے جو ہر ایک کو کرنا چاہیے جیسے صلوة تراویح وغیرہ۔

سنت کفایہ: وہ ہے جو بعض لوگوں کے ادا کرنے سے ادا ہوجائے، ہر ایک کا کرنا ضروری نہ ہو، جیسے: ہر محلے میں تراویح کی جماعت وغیرہ۔

سنت غیر موٴکدہ: وہ ہی جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہو، اور بلا عذر ترک بھی کیا ہو، اس کا کرنے والا ثواب کا مستحق، اور اس کا تارک مستحق عذاب نہیں، اس کو سنت زائدہ اور سنت عادیہ بھی کہتے ہیں۔

(۴) مستحب:

مستحب اسے کہتے ہیں جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کبھی کیا ہو، اور کبھی ترک کردیا ہو، اس کا کرنے والا مستحق ثواب، اور نہ کرنے والا مستحق عذاب نہیں، اس کو نفل اور تطوع بھی کہتے ہیں، اس کا درجہ سنتِ غیر موٴکدہ سے قدرے کم ہے۔

(۵) حرام:

حرام اسے کہتے ہیں جو قطعی دلیل سے ثابت ہو، اس کا منکر کافر اور بلا عذر کرنے والا فاسق اور مستحق عذاب ہے۔

(۶) مکروہ تحریمی:

مکروہ تحریمی اسے کہتے ہیں جو ظنی دلیل سے ثابت ہو، اس کو بلا عذر کرنے کا عادی اور اس کا منکر فاسق اور گنہگار ہے، اس کا گناہ ترکِ سنت موٴکدہ کے برابر ہے۔

(۷) مکروہ تنزیہی:

مکروہ تنزیہی اسے کہتے ہیں جس کے نہ کرنے میں ثواب اور کرنے میں عذاب نہ ہو۔

(۸) مباح:

مباح اسے کہتے ہیں جس کا کرنا اور نہ کرنا دونوں بغیر ثواب وعقاب کے جائز ہوں۔

قال في التنوير وشرحه: والمباح: ما أجيز للمكلفين فعله وتركه بلا استحقاق ثواب وعقاب .... (كل مكروه) أي: كراهة تحريم (حرام) أي: كالحرام في العقوبة بالنار (عند محمد) وأما المكروه كراهة تنزيه فإلى الحل أقرب اتفاقًا (وعندهما) وهو الصحيح المختار، ومثله البدعة والشبهة (إلى الحرام أقرب).

وفي الرد:بيان ذلك أن أدلة السمعية أربعة: الأول: قطعي الثبوت والدلالة..... الثاني: قطعي الثبوت، ظني الدلالة.....الثالث: عكسه .....الرابع: ظنيهما...فبالأوّل يثبت الافتراض والتحريم، وبالثاني والثالث الإيجاب وكراهة تحريم، وبالرابع يثبت السنة والاستحباب، ثم ذكر بعد أسطر عن «التلويح»: ما كان تركه أولى فمع المنع عن الفعل بدليل قطعي حرام، وبظني مكروه تحريمًا، وبدون منع مكروه تنزيهًا، وهذا على رأى محمد، وعلى رأيهما ما تركه أولى فمع المنع حرام، وبدونه مكروه، تنزيهًا لو إلى الحل أقرب، وتحريمًا لو إلى الحرام أقرب اه.(رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة: 9/556، 557، رشيدية)

"اعلم أن المشروعات أربعة أقسام: فرض وواجب وسنة ونفل....والسنة نوعان: سنة الهدى، وتركها يوجب إساءة،.. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك .... فالنفل ما رود به دليل ندب عمومًا أو خصوصًا، ولم يواظب عليه النبي صلي الله عليه وسلم ولذا كان دون سنة الزوائد، كما صرّح به في التنقيح".(رد المحتار، كتاب الطهارة، مطلب في السنة وتعريفها: 1/330، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 77/409