زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ عرض  یہ ہے کہ میرا ایک مکان ہے جس کی قیمت ۵۵ لاکھ روپے  ہے، میرے آٹھ بچے اور ایک بیوی ہیں، دو بیٹے اور چھے بیٹیاںہیں،شریعت کے مطابق تقسیم میں بیوی اور بچوں کو کتنے کتنے پیسے آئیں گے۔ 

جواب

سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ:

۱۔ آپ جب تک حیات ہیں اپنی تمام جائیداد کے تن تنہا مالک اور مختار ہیں، اس میں اولاد سمیت کسی کا حق نہیں، لہٰذا آپ کی زندگی میں اولاد میں سے کوئی تقسیم جائیداد کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

۲۔ زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا آپ کے اوپر واجب اور لازم نہیں ہے۔

۳۔ آپ اپنی رضا وخوشی کے ساتھ زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں تو تمام اولاد اور بیوی میں برابری کرنا مستحب ہے، اس میں لڑکے اور لڑکی سب برابر ہیں، البتہ دینداری، خدمت گزاری یا معذوری کی وجہ سے کسی کو زیادہ دینا، نہ صرف جائز بلکہ علماء نے مستحب قرار دیا ہے، بغیر کسی معقول وجہ کے کسی کو محروم کرنا یا کم دینا مکروہ اور باعث گناہ ہے، نیز آپ اپنے پاس جتنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔

لہذا آپ اپنی مرضی و اختیار کے ساتھ اپنی ساری ملکیت یا اس کا  جو بھی حصہ تقسیم کرنا چاہیں اس کے نو (۹) برابر حصے کر کے بیوی، بیٹے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ دے دیں، جب کہ پچپن لاکھ میں سے ہر ایک کو چھ لاکھ گیارہ ہزار ایک سو ایک روپے (6,11,111) دیے جائیں گے۔

قال العلامة ابن نجيم رحمه الله:

يكره تفضيل بعض الآولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له فى الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.(البحر الرائق، كتاب الهبة: 7/690، رشيدية)

قال الإمام الحصكفي رحمه الله:

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا فى العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالإبن عند الثاني وعليه الفتوى، ولو وهب فى صحته كل المال للولد جاز وأتم.

قال العلامة ابن عابدين:

قوله: (وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الهبة: 5/696، سعيد)

وفي الهندية:

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره، وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن، وعليه الفتوى، هكذا في فتاوى قاضي خان، وهوالمختار، كذا في الظهيرية رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السادس: 6/398، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 154/94