زندگی میں میراث تقسیم کرنے کا حکم

زندگی میں میراث تقسیم کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ساس (زینب کے نام) مکان تھا جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی تمام بیٹوں کو مکان میں سے حصہ دے دیا، میرے حصے میں ساٹھ گز زمین کا حصہ آیا، جو کہ میرے نام ہے، میرے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور میرے تین بھائیوں کا انتقال ہوگیا ہے اور ایک بھائی حیات ہے جس کا نام رئیس ہے اور ہم تین بہنیں ہیں، جس میں سے ایک کا انتقال ہوگیا ہے اور جو حیات ہے اس کا نام نسیم ہے۔
میری اولاد میں صرف دو بیٹیاں ہیں، اب شریعت کے مطابق میری بیٹیوں کا کتنا حصہ بنے گا؟

جواب

وراثت کا تعلق مرنے کے بعد ہوتا ہے، کوئی شخص اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرتا ہے، دراصل وہ شرعاً ہبہ(ہدیہ) ہوتا ہے، ہبہ کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ ہبہ کرنے والا جسے چاہے ہدیہ دے اگر اپنی اولاد کو ہدیہ دینا ہو، تو ان میں برابری کرنا ضروری ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ اگر اپنی اولاد کو اپنی جائیداد تقسیم کر کے دینا چاہتی ہیں، تو دونوں بیٹیوں کو برابر حصہ دیں۔
نیز اگر اپنے بہن بھائی میں سے کسی کو اپنی جائیداد دینا چاہیں، تو انہیں بھی دے سکتی ہیں، بشرطیکہ ہدیہ کرنے کے بعد انہیں مالکانہ اختیارات بھی دے دیں۔
لما في البحر:
’’فروع یکرہ تفضیل بعض الأولاد علی البعض في الھبۃ حالۃ الصحۃ؛ إلا لزیادۃ فضل لہ في الدین وإن وھب مالہ کلہ لواحد(الواحد) جاز قضاء، وھو آثم کذا في المحیط..... وفي الخلاصۃ المختار: التسویۃ بین الذکر، والأنثی في الھبۃ‘‘. (کتاب الھبۃ: 490/7، رشیدیۃ)
وفي الھندیۃ:
’’ومنھا أن یکون الموھوب مقبوضا، حتی لایثبت الملک لموھوب لہ قبل القبض‘‘. (کتاب الھبۃ: 390/4، دارالفکر بیروت).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی(فتویٰ نمبر:222/ 177)