ولیمے سے کیا مراد ہے؟

ولیمے سے کیا مراد ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسلام میں ولیمے سے کیا مراد ہے؟ رخصتی کے بعد اگر دلہا چند دوست واحباب کو کھلانا کھلادے، تو کیا یہ ولیمہ کہلائے گا؟

جواب

ولیمہ کے معنی ہیں شادی کا کھانا، نکاح کے بعد دولہا کی طرف سے جو دعوت دی جاتی ہے اس دعوت کو دعوتِ ولیمہ کہا جاتا ہے، ولیمہ کی دعوت کرنا اور ولیمہ کی دعوت کو قبول کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شرکت فرماتے تھے، ولیمہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بڑے پیمانے پر کھانا تیار کرکے کھلایا جائے، بلکہ شبِ عروسی گزارنے کے بعد اپنے عزیزوں، دوستوں،، رشتہ داروں اور مساکین کو حسبِ استطاعت کھانا تیار کرکے کھلانا سنت ہے۔
ولیمہ کی شرعی حدود جس کو اسلام نے متعین کیا ہے، وہ یہ ہے کہ جس میں غرباء بھی ہوں، حسبِ استطاعت ہو، ریا اور نمود کے لیے نہ ہو، زیادہ تکلفات نہ ہوں، خاص اللہ تعالی کی رضا مندی اور خوش نودی کے لیے ہو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں ولیمے کی تقریبات بہت سادہ اور معمولی قسم کی ہوتی تھیں، حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ولیمے کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نہ اونٹ ذبح ہوا، نہ بکری، سعد ابن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے دودھ کا ایک پیالہ آیا تھا بس وہی ولیمہ تھا، الغرض شبِ عروسی گزارنے کے بعد بلا تکلف وبلا تفخر سہولت کے ساتھ جس قدر میسر ہو، لوگوں کو کھلانا دعوتِ ولیمہ ہے۔
لمافي صحیح البخاري:
وقال عبد الرحمن بن عوف: قال لي النبي صلی اللہ علیہ وسلم:«أولم ولو بشاۃ».(کتاب النکاح، باب الولیمۃ حق، رقم الحدیث: ٥١٦٥: دار السلام)
وفي مرقاۃ المفاتیح:
’’عن أنس رضي اللہ عنہ قال:«ما أولم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی أحد من نسائہ ما أولم علی زینب أولم بشاۃ»‘‘.(کتاب النکاح، باب الولیمۃ، الفصل الأول: ٦/ ٣٦٦:رشیدیۃ)
وفیہ أیضا:
عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:«شر الطعام طعام الولیمۃ یدعی لھا الأغنیاء ویترک الفقراء ومن ترک الدعوۃ فقد عصی اللہ ورسولہ».(کتاب النکاح، باب الولیمۃ، الفصل الأول: ٦/ ٣٧١، ط: رشیدیۃ).
فقط. واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:177/287