نماز تراویح کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا

نماز تراویح کے بعد بلند آواز سے ذکر  کرنا

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں بعض مقامات پر چار رکعات تراویح پڑھنے کے بعد اور بعض مقامات پر پوری تراویح ختم کرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر کیا جاتا ہے اور اگر ان سے کہا جائے کہ ایسا مت کریں تو وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا کچھ برا کام تو نہیں،تو ایسا ذکر کرنا کیسا ہے؟

جواب

ہر چار رکعات کے بعد جو بھی ذکر کیا جائے،آہستہ پڑھنا افضل ہے،بلند آواز سے نہ پڑھا جائے ۔
ادْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ (سورۃ الأعراف: ٥٥)
(ادْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً) معناہ: تذللا واستکانۃ، وخُفْیَۃ) کما قال: (وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِی نَفْسِکَ)۔۔۔ الآیۃ. وفي الصحیحین،عن أبي موسی الأشعري رضي اللّٰہ عنہ، قال: رفع الناس أصواتہم بالدعائ، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أیہا الناس! ارْبَعُوا علی أنفسکم؛ فإنکم لا تدعون أصمَّ ولا غائبًا، إن الذی تدعونہ سمیع قریب۔۔۔الحدیث. وقال ابن جُرَیْج، عن عطاء الخراساني، عن ابن عباس في قولہ:(تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً )قال: السر. وقال ابن جریر:( تَضَرُّعًا ) تذللا واستکانۃ لطاعتہ. (وَخُفْیَۃ )یقول: بخشوع قلوبکم، وصحۃ الیقین بوحدانیتہ وربوبیتہ فیما بینکم وبینہ، لا جہارا ومراء اۃ. (تفسیر ابن کثیر: الجزء الثامن، سورۃ الأعراف: ٢/٢٩٦، دارالفیحاء).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی