نمازِ جنازہ کی دوسری ،تیسری تکبیر میں شامل ہونے کا طریقہ

نمازِ جنازہ کی دوسری ،تیسری تکبیر میں شامل ہونے کا طریقہ

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک آدمی امام کے پیچھے نمازِ جنازہ میں شامل ہوتا ہے اور اس کو معلوم نہیں کہ امام کو ن سی تکبیر پڑھ رہا ہے ،آیا دوسری یا تیسری یا چوتھی ہے ،اس حالت میں اس کو کیا کرنا چاہیے اور پھر جب امام سلام پھیر دے تو اس مقتدی کو کیا کرنا ہے؟ مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

بعد میں آنے والا فوراً نیت نہیں باندھے گا، بلکہ امام کی تکبیر کا انتظار کرے گا ، اور اگر تکبیر رابع کے بعد آیا ہے تو نمازِ جنازہ اس کی فوت ہوگئی ہے اور کچھ تکبیریں فوت ہوئیں ہیں تو امام کے سلام کے بعد صرف فوت شدہ تکبیرات ہی کہہ سلام پھیر دے ، اگر جنازے کے اٹھ جانے کا خوف ہو، اور اگر جنازے کے اٹھ جانے کا خوف نہ ہوتو دعائیں بھی ساتھ پڑھ لے، لیکن درمختار میں ہے کہ اگر تکبیر ِرابع کے بعد آجائے پھر بھی نماز میں داخل ہو گا اور اسی پر فتویٰ ہے، پھر امام کے سلام کے بعد اپنی تکبیریں پوری کرے۔
(والمسبوق) ببعض التکبیرات لا یکبر في الحال بل (ینتظر)تکبیر (الإمام لیکبر معہ) للافتتاح لما مر أن کل تکبیرۃ کرکعۃ، والمسبوق لایبدأ بما فاتہ. وقال أبویوسف: یکبر حین یحضر (کماء ینتظر الحاضر) في (حال التحریمۃ) بل یکبر اتفاقا للتحریمۃ؛ لأنہ کالمدرک ثم یکبران ما فاتھما بعد الفراغ نسقا (بلا دعاء إن خشیا رفع المیت علی الأعناق). وما في المجتبی من أن المدرک یکبر الکل للحال شاذ. نہر (فلوجائ) المسبوق بعد (تکبیرۃ الإمام الرابعۃ فاتتہ الصلاۃ) لتعذر الدخول في تکبیرۃ الإمام. وعند أبي یوسف: ید خل لبقاء لتحریمۃ، فإذا سلم الإمام کبر ثلاثا کما في الحاضر، وعلیہ الفتوی، ذکرہ الحلبي وغیرہ. (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز: ٢/٢١٦، ٢١٧، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی