داڑھی منڈانے اور بالوں کو کلر کرنے والے شخص کی اقتداء میں تراویح ادا کرنا

داڑھی منڈانے اور بالوں کو کلر کرنے والے شخص کی اقتداء میں تراویح ادا کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو کہ بیس سال سے نماز تراویح پڑھارہا تھا اور قرآن پڑھ رہا تھا اس کی داڑھی ایک مشت سے کم ہے اور اپنے بالوں کو حنا اور بھاگیرا سے کلر کرتا ہے ۔ کیا وہ نماز پڑھا سکتا ہے؟ کیا مقتدی ا س کے پیچھے نماز تراویح پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایسے شخص کو امام بنانا جو داڑھی کتروا کر ایک مشت سے کم کرتا ہو، اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، ،چاہے فرض نماز ہو یا تراویح، باقی کالے رنگ کے علاوہ حنا، مہندی وغیرہ کا خضاب لگانا درست ہے۔
لما في الشامیۃ:
’’(وفاسق) من الفسق: وھو الخروج عن الاستقامۃ: ولعل المراد من یرتکب الکبائر کشارب الخمر والزاني وآکل الربا ونحو ذلک.... وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لایھتم لامر دینہ وبأن في تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ، وقد وجب علیھم إھانتہ شرعا.... بل مشی في شرح المنیۃ علی أن کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم‘‘. (کتاب الصلاۃ: قبیل مطلب البدعۃ خمسۃ أقسام: 355/2، رشیدیۃ)
وفي الدر المختار:
’’یستحب للرجل خضاب شعرہ ولحیتہ‘‘. (کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ص:668، دارالکتب العلمیۃ بیروت).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:183/194