جو شخص قرآن بھلا چکا ہو اس کی امامت کا حکم

جو شخص قرآن بھلا چکا ہو اس کی امامت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد امام نے  امامت کی تقرری کے وقت بتایا کہ میں عالم حافظ اور قاری ہوں،کمیٹی کو ایسے ہی امام کی ضرورت تھی، خصوصاً حافظ کی مقتدیوں نے کہا کہ آپ قرآن پاک دو چار پارہ سنائیں، امام صاحب موصوف نے کہا کہ تقریباً چھ سال سے بھول گیا ہوں پڑھ نہیں سکتا،مقتدیوں کی ایک جماعت نے کہا کہ آپ غلط بیانی سے امامت لے رہے ہیں اس لیے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں،معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا امام موصوف کو امامت پر رکھا جائے یا مقتدیوں کے مطابق انہیں امامت سے سبکدوش کر دیا جائے؟ براہ کرم صحیح مسئلہ سے آگاہ فرما ئیں ۔

جواب

اگر امام موصوف کی تلاوت قرآن پاک صحیح ہو اور نماز کے متعلق تمام ضروری مسائل اور شرائط امامت سے واقف ہو تو اس کو رکھ لیا جائے وگرنہ نہیں،باقی اس  نے جو غلط بیانی سے کام لیا، اس سے اس کو گناہ ہوگا، اب اس کوندامت کے ساتھ توبہ کرنی چاہیے۔
''والأحق بالإمامۃ الأعلم بأحکام الصلوٰۃ، فقط صحۃً و فساداً البشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ وحفظہ قدر فرض۔۔۔۔۔ثم الأحسن تلاوۃ وتجویداً للقرأۃ ثم الأورع ثم الأمین.'' (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ ١/٥٥٧، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی