بیٹی کے جہیز کےلیے رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ

Darul Ifta

بیٹی کے جہیز کےلیےرکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیٹی کو جہیز میں دینے کے لیے والدین کے پاس جو سونا اور چاندی موجود ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو والدین پر یا لڑکی پر؟

جواب

اگر والدین نے بیٹی کو زیورات کا مالک بنا دیا ہے اور بیٹی بالغہ ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر نابالغہ ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، بیٹی کو اگرمالک نہیں بنایا گیا ہے تو زیورات والدین کی ملکیت شمار ہوں گے اور والدین پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
تجب في مائتی درھم وعشرین دینارا ربع العشر ولوتبرا أوحلیا أو آنیۃ.'' (البحرالرائق، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال: ٢/٣٩٣، رشیدیۃ)
''تجب الزکاۃ فیھا سواء کانت دراھم مضروبۃ، أو تبرا، أوحلیا مصوغا، أوحلیۃ سیف، أو منطقۃ أو لجام أو سرج أو الکواکب في المصاحف والأواني، وغیرھا إذا کانت تخلص عند الإذابۃ إذا بلغت مائتي درھم، وسواء کان یمسکھا للتجارۃ، أو للنفقۃ، أو للتجمل، أولم ینوشیأا.'' (بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال فصل صفۃ نصاب الزکاۃ في الفضۃ: ٢/٣٩٤، رشیدیۃ)
(وکذا في الھندیۃ: کتاب الزکاۃ، الباب الثالث في زکوۃ الذھب والفضۃ والعروض، الفصل الأول: ١/٢٤٠، دارالفکر)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصابا ملکا تاما وحال علیہ الحول أما الوجوب، فلقولہ تعالی: (وَآتُوا الزَّکَاۃَ) ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ''أدوا زکاۃ أموالکم'' وعلیہ إجماع الأمۃ. (الھدایۃ، کتاب الزکاۃ: ١/١٨٥، شرکۃ علمیۃ)
والعادۃ الفاشیۃ الغالبۃ في أشراف الناس وأوساطہم دفع ما زاد علی المہر من الجہاز تملیکا. سوی ما یکون علی الزوجۃ لیلۃ الزفاف من الحلي والثیاب، فإن الکثیر منہ أو الأکثر عاریۃ، فلو ماتت لیلۃ الزفاف لم یکن للرجل أن یدعي أنہ لہا یلي القول فیہ للأب أو الأم أنہ عاریۃ أو مستعار لہا کما یعلم من قول الشارح، کما لو کان أکثر مما یجہز بہ مثلہا، وقد یقال: ہذا لیس من الجہاز عرفا. وبقي لو جری العرف في تملیک البعض وإعارۃ البعض.(رد المحتار، کتاب النکاح، باب المھ:ر ٤/٣٠٦، حقانیۃ)
وھي واجبۃ علی الحر المسلم المالک المقدار النصاب فاضلا عن حوائجہ الأصلیۃ.(الفتاوی العالمکیریۃ،کتاب الزکوۃ،الباب الثامن في صدقۃ الفطر: ١/١٩١، رشیدیہ)
وفي الرد: قولہ: نسبۃ للحول: أي الحول القمري لا الشمسي۔۔۔۔قولہ:لحولانہ علیہ: أي لأن حولان الحول علی النصاب شرط، لکونہ سببا.''(ردالمحتار، کتاب الزکاۃ، مطلب الفرق بین السبب والشرط والعلّۃ: ٢/٢٥٩، سعید). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

footer