بار بار وضو ٹوٹنے والے کے لیے نمازِ تراویح کا حکم

بار بار وضو ٹوٹنے والے کے لیے نمازِ تراویح کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس بندے کو وضو کا مسئلہ ہو یعنی کئی بار نماز میں ٹوٹ جاتا ہو لیکن ہردفعہ ایسا نہ ہو  اور شرعی عذر بننے کی جو شرط ہے وہ مکمل نہ ہو، لیکن اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کبھی جماعت میں، کبھی اکیلے دو تین دفعہ وضو کر کے نماز مکمل کرنی پڑے،  تو نماز تراویح میں ایسے بندے کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ سحری تک اتنے وقت کا انتظار کرے کہ جس میں وہ نماز تراویح مکمل کر سکے یا تھوڑی تھوڑی کر کے مکمل کرے یا چھوڑ بھی سکتا ہے؟اسے چار پانچ مرتبہ یا اس سے زائد وضو کرنا پڑے تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کو چاہیے کہ جب بھی وضوء ٹوٹ جائے ، وضوء کر کے امام کے ساتھ شریک ہوجائے اور امام کے پیچھے جتنی رکعتیں ہوسکے پڑھ لے ، اور جتنی رکعتیں چھوٹ جائیں ، اسے وتر کے بعد اکیلے پڑھ لے ۔
لما في التنوير مع الدر :
’’(ووقتها بعد صلاة العشاء ) إلى الفجر ( قبل الوتر وبعده ) في الأصح فلو فاته بعضها وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه ثم صلى ما فاته‘‘.(كتاب الصلاة، مبحث:صلاة التراويح، 597/2:رشيدية)
وفي الهندية:
’’وإذا صلى معه شيئا من التراويح أو لم يدرك شيئا منها أو صلاها مع غيره له أن يصلي الوتر معه هو الصحيح‘‘.(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، 174/1:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
’’إذا فاتته ترويحة أو ترويحتان ولو اشتغل بها يفوته الوتر بالجماعة فعلى الأولى يشتغل بالوتر ثم يصلي ما فاته من التراويح‘‘.(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل،119/2: رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:183/226