آگ اور انگیٹھی والے کمرے میں نماز پڑھنے کا حکم

آگ اور انگیٹھی والے کمرے میں نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(١) کسی مسجد کے ہال کے علاوہ ایک اور کمرہ یعنی سردی میں آگ جلانے کے لیے بنایا ہے، اور مستقل نماز کے لیے ہال موجود ہے، اس آگ والے کمرے میں نماز باجماعت ادا کرنا کیسا ہے؟
(٢) آگ والے کمرے میں کمرے کے درمیان ایک بیلر (انگیٹھی) ہے، اور جب صف بناتے ہیں تو ایک صف بیلر کے پیچھے بنتی ہے، لہذا اس کمرے میں نماز باجماعت ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب

(١، ٢) آگ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہذا صورت مسئولہ میں ایسا کمرہ جس میں آگ جلائی گئی ہو، وہاں پر آگ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اگر نمازیوں کے دائیں بائیں یا پیچھے کی جانب آگ جل رہی ہو، تو ایسی جگہ نماز پڑھنے میں حرج نہیں۔
نیز کسی کمرے وغیرہ میں نماز باجماعت ادا کرنے سے جماعت کی فضیلت تو حاصل ہوگی، لیکن مسجد کی فضیلت وثواب حاصل نہیں ہوگا، لہذا مسجد کے اندر سردی ختم کرنے کی کوئی ترتیب بناکر مسجد کے اندر باجماعت نماز ادا کی جائے۔
لما في التنویر مع الرد:
’’(و) لا إلی (مصحف أو سیف مطلقا أو شمع أو سراج) أو نار توقد؛ لأن المجوس إنما تعبد الجمر، لا النار الموقدۃ، ((قنیۃ))‘‘.
’’قولہ:(أو شمع)........ وعدم الکراھۃ ھو المختار کما في غایۃ البیان، وینبغي الاتفاق علیہ فیما لو کان علی جانبیہ کما ھو المختار في لیالي رمضان، بحر، أي: في حق الإمام، أما المقابل لھا من القوم فتلحقہ الکراھۃ علی مقابل المختار.رملي.........وظاھرہ أن الکراھۃ في الموقدۃ متفق علیھا کما في البحر‘‘.(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا: ٢/ ٥١٠:رشیدیۃ)
وفي العنایۃ:
’’وفي المحیط إن توجہ إلی سراج أو قندیل أو شمع لا یکرہ....... بخلاف ما إذا توجہ إلی تنور أو کانون فیہ نار تتوقد فإنہ یکرہ؛ لأنہ یشبہ العبارۃ؛ لأنہ فعل المجوس فإنھم لا یعبدون إلا نارا موقدۃ، وفي الذخیرۃ ثم من المشایخ من سوی بین أن یکون....... التنویر مفتوح الرأس أو غیرہ، ومنھم من فرق‘‘.(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ: ٢/ ٥٢٩:حقانیۃ)
وفي غنیۃ المتملي:
’’(وھکذا في المکتوبات) أي الفرائض لو صلی جماعۃ في البیت علی ھیئۃ الجماعۃ في المسجد نالوا فضیلۃ الجماعۃ وھي مضاعفۃ بسبع وعشرین درجۃ، لکن لم ینالوا فضیلۃ الجماعۃ الکائنۃ في المسجد فالحاصل أن کل ما شرع فیہ الجماعۃ فالمسجد فیہ أفضل‘‘.(کتاب الصلاۃ، صلاۃ التراویح: ٤٠٢:رشیدیۃ).فقط. واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:177/172