بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضارب کا رب المال کی دکان کرایہ پر لینا

مضارب کا رب المال کی  دکان کرایہ پر لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مضارب، مضاربت کے کام کے لیے رب المال کی دکان کرایہ پر لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

مضارب، رب المال کی دکان کرایہ پر نہ لے سکتا، اگر کرایہ کا عقد کرلیا تو کرایہ دینا لازم نہیں۔

لمافي الأصل:

«أن المضارب لواستأجر رب المال أن يشتري له ويبيع بعشرة دراهم في الثمن فاشترى رب المال به وباع فربح أو وضع كان ما صنع من ذلك جائزًا على المضاربة، ولا أجر لرب المال؛ لأنه عمل في ماله».(كتاب المضاربة، باب المضارب يدفع إليه المال وهو يعمل معه فيه: 4/222، دار ابن حزم).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 170/36،38

مضاربت

مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاوی