بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد خیار بلوغ حاصل ہوگا؟

لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد خیار بلوغ حاصل ہوگا؟

سوال

لڑکی کے دادا نے قبل البلوغ لڑکی کا نکاح چچا زاد بھائی سے کرانے کا کہا تھا بالفاظ دیگر لڑکے کے ساتھ موسوم کردیا تھا لیکن نکاح نہیں پڑھایا تھا،بلوغت کے بعد لڑکی چچا زاد کے ساتھ نکاح سے صاف انکاری ہے،اور نکاح کی صورت میں سنگین نتائج کا کہتی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً دادا نے بالغ ہونے سے قبل لڑکی کو اس کے چچا زاد کے لیے مختص کیا کہ اس لڑکی کا رشتہ فلاں سے ہوگا اور با قاعدہ نکاح نہیں ہوا تو اس سے لڑکی اور اس کے چچا زاد کا آپس میں نکاح منعقد نہیں ہوا، بلکہ لڑکی کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، لہٰذا بلوغت کے بعد نکاح سے پہلے لڑکی سے اجازت لینا ضروری ہے، اگر وہ راضی ہو تو بہت اچھا، وگرنہ اس کی رضا کے بغیر نکاح منقعد نہیں ہوگا۔

لما في التنوير:

(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح)

وفي الدر:

"لانقطاع الولاية بالبلوغ".

وفي الحاشية:

"وإن زوجها بشير الاستمار فقد أخطاء السنة وتوقف على رضاها".(تنوير الأبصار مع الدر المختار حاشية ابن عابدين، باب الولي: 4/155، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 155/96