بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لڑکی کی رخصتی پر کھانا دینے،اور اس کے کھانے کا حکم

لڑکی کی رخصتی پر کھانا دینے،اور اس کے کھانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکی کی رخصتی پر کھانا دینا کیسا ہے؟ اور اس کا کھانا کیسا ہے؟

جواب

دعوت ولیمہ ایک سنت عمل ہے، اور یہ لڑکے والوں کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ اگر لڑکی والے رخصتی کے موقع پر نام ونمود اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے بغیر کسی جبر واکراہ (زبردستی) کے اپنے پڑوسیوں اور متعلقین کو کھانے پر مدعو کریں تو یہ جائز ہے، اور اس کا کھانا بھی جائز ہے، البتہ یہ دعوت مسنون نہیں ہے، اسے سنت سمجھنا یا بطور رسم کرنا درست نہیں۔

لمافي مصنف بن عبد الرزاق:

فقال (علي رضي الله عنه) يا رسول الله! متى تبنيني؟ قال: الثالثة إن شاء الله ثم دعا بلالًا، فقال: يا بلال! إني زوّجت ابنتي ابن عمي، وأنا أحبّ أن يكون من سنة أمتي إطعام الطعام عند النكاح، فأت الغنم فخذ شاة، وأربعة أمداد أو خمسة، فاجعل لي قصعة لعلي أجمع عليها المهاجرين والأنصار، فإذا فرغت منها فآذني بها، فانطلق ففعل ما أمره، ثم أتاه بقصعة، فوضعها بين يديه، فطعن رسول الله صلي الله عليه وسلم في رأسها، ثم قال: أدخل علي الناس زفة زفة، ولا تغادرن زفة إلى غيرها. يعني إذا فرغت زفة لم تعد ثانية.فجعل الناس يردون كلما فرغت زفة وردت أخرى،حتى فرغ الناس،ثم عمد النبي صلي الله عليه وسلم إلى ما فضل منها فتفل فيه، وبارك، وقال: يا بلال! احملها إلى أمهاتك، وقل لهن: كلن، وأطعمن من عشيكنّ.(تزويج فاطمة رضي الله عنها: 5/487، 488، مكتبة إسلامي)

وفي عمدة القاري لشرح الصحيح البخاري:

«والضيافة من سنن المرسلين وعباد الله الصالحين». (كتاب الأدب، باب حق الضيف: 23/270، دار الكتب العلمية بيروت).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر : 176/38،39