بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرآن کریم کو حروف تہجی میں لکھنا

قرآن کریم کو حروف تہجی میں لکھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک نہایت دین دار اور پرہیز گار مسلمان دینی خدمات کے جذبات سے سرشار ہو کر قرآن کی ناظرہ تعلیم کو عام کرنے کی غرض اور  ولقد یسرنا القرآن  پر عمل کرکے رومن طرز مثلا جس طرح الحمدللہ۔ AL HAMDU اور بسم اﷲ۔ BISMILLAH وغیرہ لکھا جاتا ہے، بعینہ اسی طرح قرآن کو اردو حروف تہجی جیسے بسم اﷲ الرحمن الرحیم کو بس مل لاہر رح مانر رحیم وغیرہ کی طرز پر تیسویں سپارہ کی طباعت کا نیک ارادہ رکھتا ہے، آیا اس کا یہ عمل صحیح ہے یا غلط؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

اس کا یہ عمل درست نہیں ہے، اس لیے کہ قرآن شریف کو مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق لکھنا ضروری ہے، تعلیم کی آسانی مقصود ہے تو علماء اور قراء حضرات نے جو طریقے اختیار کیے ہیں اور جو قاعدے سپارے لکھے ہیں، ان ہی میں سے کسی کی اشاعت کریں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی