بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرآن پر سائنسی اعتراض

قرآن پر سائنسی اعتراض

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ امریکا سے ہمارے ایک دوست نے ایک پمفلٹ بھیجا ہے، جسے ایک عیسائی تنظیم نے چھاپا ہے، اس میں دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں سائنسی غلطی پائی جاتی ہے ،اس پمفلٹ کا ترجمہ درج ذیل ہے:”سورہ کہف آیت٨٦ میں قرآن کریم اعلان کرتا ہے” یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب (کی جگہ) پر پہنچتا ہے وہ اس سورج کو پانی کی ایک جھیل میں غروب ہوتا ہوا پاتا ہے، اس کے قریب وہ کچھ لوگوں کوپاتا ہے ۔” کیا پایا؟ ”سورج”کہاں پایا گیا؟ ”تیرہ وتار پانی کی جھیل میں ” اس نے کس کو پایا؟ ”لوگوں کو ” کیا سورج دن کے اختتام پر پانی کی جھیل میں جاکر رہتا ہے؟ کیا یہ خدا کے الفاظ ہیں یا کسی اور کے؟آج سائنس دان پر یقین ہیں کہ سورج کے آرام کی کوئی جگہ زمین پر نہیں، شاید یہ غلطی حرارت کے ریڈیائی اثرات کی وجہ سے قرار دی جائے،(یہی اثرات سورج کے سخت گرمی کے دنوں میں ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سڑکوں اور ہائی وے پر پانی کے بہنے کا جھوٹا تصور پیدا ہوتا ہے )؟

جواب

سورہ کہف میں اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :جب وہ (ذوالقرنین)سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اس کو دلدلی سیاہ چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا،لفظ ”حمئۃ” کے لغوی معنی سیاہ دلدل یا کیچڑ کے ہیں، مراد اس سے وہ پانی ہے جس کے نیچے سیاہ کیچڑ ہو جس سے پانی کا رنگ بھی سیاہ دکھائی دیتاہو، اور آفتاب کو ایسے چشمے میں ڈوبتے ہوئے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب اس چشمے میں ڈوب رہا ہے، کیوں کہ آگے آبادی یا کوئی خشکی سامنے نہ تھی ،جیسے آپ کسی ایسے میدان میں غروب کے وقت ہوں، جہاں دور تک جانب مغرب میں کوئی پہاڑ، درخت، عمارت نہ ہو تو دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آفتاب زمین کے اندر گھس رہا ہے، ایسے ہی جب کہ ذوالقرنین وقت غروب سمندر کے کنارے کھڑے تھے تو ان کو سورج سمندر کے اندر غروب ہوتا ہوا محسوس ہوا، چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے احساس کے مطابق:(تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ)ارشاد فرمایا، یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ فی الواقع وہ چشمے میں ڈوبتا ہے جیسا کہ معترض نے سمجھا۔

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اﷲ تعالی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:”یعنی یوں نظر آیا جیسے سمندر میں سفر کرنے والوں کوہوتا ہے کہ سورج پانی میں سے نکل رہا ہے او رپانی ہی میں ڈوبتا ہے، حضرت شاہ صاحب رحمہ اﷲ تعالی لکھتے ہیں ”ذوالقرنین کو شوق ہوا کہ دیکھے دنیا کی آبادی کہاں تک بسی ہے، سو مغرب کی طرف اس جگہ پہنچا کہ دلدل تھی، نہ گزرآدمی کا ، نہ کشتی کا، اﷲ کے ملک کی حد نہ پاسکا۔”فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی