بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے تو مہر کا حکم

رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے تو مہر کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے   اپنے بھائی عمر کا نکاح بکر کی بیٹی ہندہ سے کیا ، ایجاب وقبول کے بعد مہر مسمی کا آدھا ادا کردیا گیا  اور رخصتی کی مدت ایک سال متعین ہوئی ، لیکن چار سال کا عرصہ گزرا  رخصتی نہ ہوئی،ان چار سالوں کے درمیان  خلوت صحیحہ بھی ہوئی  ہے اور عمر ( شوہر )کا انتقال بھی ہوگیا  ہے  ، اب مسئلہ یہ ہےکہ شوہر کا بھائی بکر سے کہتا ہے کہ ادا شدہ مہر واپس کرو ،یا اپنی بیٹی کا نکاح  میرے بیٹے سے کرو  ،تو اس  کے لئے نہ بکر راضی ہے اور نہ ہندہ نکاح  ثانی کے لئے  راضی ہے ،تو مہربا نی فرماکر راہنمائی فرمائیں کہ مہر کا واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ عقد نکاح کے بعد شوہر کے انتقال کی صورت میں ، اسی طرح خلوت صحیحہ کے بعد بھی مرد پر عورت کا مکمل مہر کا ادا کرنا لازم اور ضروری ہے؛لہذا صورت مسئولہ میں (مرحوم )شوہر پر ہندہ کا  مہر پورا  ادا کرنا   لازم تھا ، اب چونکہ ان کا انتقال ہوگیا ، اس لئے اس کے ترکے میں سے بقیہ نصف مہر کا ادا کرنا مرحوم کے ورثاء پر لازم ہے ، اور  مرحوم کی بیوہ سے ادا شدہ نصف   مہر کی واپسی کا مطالبہ جائز نہیں ، نیز ہندہ  عمرکی جائیداد میں (اگر اس کی کوئی جائیداد ہو )  آدھی  جائیداد  کی مستحق ہے  اور شوہر مرحوم کے بھائی کا  ہندہ کو اپنے بیٹےکے ساتھ نکاح پر مجبور کرنا  بہر حال ناجائز ہے۔

لمافي التنزيل:

﴿وَإِنْ أرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾(سورة النساء ،الآية:20،الجزء :4)

وفي البدائع:

(وأما)بيان ما يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة :الدخول ،والخلوة الصحيحة ،وموت أحد الزوجين ، سواء كان مسمى، أو مهر المثل، حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك ،إلا بالإبراء من صاحب الحق.(كتاب النكاح ،فصل:في بيان مايتأكد به المهر :3/520،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 176/64