ایک بھائی کا دوسرے بھائی کو عشر دینا

ایک بھائی کا دوسرے بھائی کو عشر دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ چند بھائیوں کی مشترکہ زمین ایک اندازے سے یوں تقسیم کی ہے کہ فلاں علاقے میں واقع زمین پر آپ کاشت کرو اور فلاں علاقے پر واقع زمین میں دوسرا بھائی وغیرہ، ان بھائیوں میں ایک غریب ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ ایک بھائی دوسرے کو عشر دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ زمین موروثی ہے، ابھی تک تقسیم نہیں کی گئی ہے بلکہ صرف فصل کے اعتبار سے تقسیم کی گئی ہے ، برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر ایک بھائی غریب ہے، اور زکوٰۃ کے نصاب کا مالک نہیں ہے، تو اس کو دوسرا بھائی عشر دے سکتا ہے۔
لما في التاتارخانیۃ:
’’وقال أبو القاسم في أرض مشاعۃ بین قوم فزرع بعضھم بعض ھذہ الأرض ببذرہ وساق إلیہ من الماء المشترک بینھم واستنزل الأرض سنین بغیر إذن شرکائہ قال: إن حصل لہ بعد المھایأۃ من نصیبہ ھذا القدر وکانوا یتھایؤن قبل ذلک لاضمان علیہ، ولا شرکۃ لشرکائہ في الاستنزال....۱ھ‘‘. (کتاب الشرکۃ: الفصل الثامن في المتفرقات:514/7، فاروقیۃ)
وفي رد المحتار:
’’وقید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الأقارب کالإخوۃ والأعمام والأحوال الفقراء بل ھم أولیٰ؛ لأنہ صلۃ وصدقۃ‘‘. (کتاب الزکاۃ: 344/3، رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:178/48