مسجد میں نماز کےلیے خاص جگہ متعین کرنے کا حکم

مسجد میں نماز کےلیے خاص جگہ متعین کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد میں بہت سے نمازی آتے ہیں، پانچ چھ صفیں ہو جاتی ہیں، اس میں ایک صاحب ضعیف بھی آتے ہیں دو آدمیوں کے سہارے سے، گدی بچھا کر بیٹھتے ہیں، تپائی کے اوپر سجدہ کرتے ہیں، صف اوّل میں امام کے بائیں طرف کونے میں بیٹھ جاتے ہیں،اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جماعت کھڑی ہو گئی، صف اوّل پوری ہو گئی بجز ان کے، دوسری بھی پوری ہور ہی ہے بجزان کے، کبھی کبھی تیسری بھی پوری ہوجاتی ہے اور یہ ابھی جماعت میں شریک نہیں ہوئے، حاصل کلام یہ ہے پہلی صف پہلی رکعت میں نامکمل، دوسری صف دوسری رکعت میں نامکمل؟ کیوں جب تک یہ اگلی صف میں جاکر بیٹھ نہ جاویں ان کے جانے کا راستہ چھوڑ دیا جاتا ہے، اگر کوئی شخص ان کی گدی اور بنچ پچھلی صف میں رکھ دے اور صف اوّل پوری کر لے تو مسجدکا حترام ختم ہوجانے کا اندیشہ ہے ،اس واسطے کہ ان کا مزاج کڑوا ہے،اس مسئلے کو کیسے حل کریں؟

جواب

مسجد میں کسی کے لیے کوئی خاص مقام مقرر نہیں ہوتا اور نہ کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ مسجد میں اپنے لیے کوئی خاص مقام مقرر کرے اور نہ کسی کے آنے کے لیے صف کو نامکمل چھوڑنا جائز ہے ،کیوں کہ حدیث شریف میں منقول ہے کہ صف کے درمیان اگر خلا ہو تو شیطان گھس جاتا ہے، لہٰذا  ان صاحب کو سمجھادیاجائے اور شریعت کے حکم سے ان کو آگاہ کیا جائے کہ جہاں آپ کو جگہ مل جائے آپ نمازپڑھ لیا کریں اور بہتر یہ ہے کہ آپ کو اگر صف اوّل میں ایک کنارے کھڑا ہونا ہو تو آپ پہلے تشریف لائیں کریں تاکہ مسئلہ بھی حل ہو اور دوسرے نمازیوں کو تکلیف بھی نہ ہو۔

''(قَوْلُہُ وَتَخْصِیصُ مَکَان لِنَفْسِہِ)؛ لِأَنَّہُ یُخِلُّ بِالْخُشُوعِ: کَذَا فِی الْقُنْیَۃِ: أَیْ لِأَنَّہُ إذَا اعْتَادَہُ ثُمَّ صَلَّی فِی غَیْرِہِ یَبْقَی بَالُہُ مَشْغُولًا بِالْأَوَّلِ۔۔۔لَہُ فِی الْمَسْجِدِ مَوْضِعٌ مُعَیَّنٌ یُوَاظِبُ عَلَیْہِ وَقَدْ شَغَلَہُ غَیْرُہُ، قَالَ الْأَوْزَاعِیُّ: لَہُ أَنْ یُزْعِجَہُ، وَلَیْسَ لَہُ ذَلِکَ عِنْدَنَا اہـ أَیْ لِأَنَّ الْمَسْجِدَ لَیْسَ مِلْکًا لِأَحَدٍ قُلْت: وَیَنْبَغِی تَقْیِیدُہُ بِمَا إذَا لَمْ یَقُمْ عَنْہُ عَلَی نِیَّۃِ الْعَوْدِ بِلَا مُہْلَۃٍ، کَمَا لَوْ قَامَ لِلْوُضُوء ِ مَثَلًا وَلَا سِیَّمَا إذَا وَضَعَ فِیہِ ثَوْبَہُ لِتَحَقُّقِ سَبْقِ یَدِہِ تَأَمَّلْ.'' (رد المحتار، کتاب الصلاۃ ١/٦٦٢، سعید)

''وہذا کمن بسط بساطا أو مصلی أی سجادۃ فی المسجد أو المجلس فإن کان المکان واسعا لا یصلی ولا یجلس علیہ غیرہ وإن کان المکان ضیقا جاز لغیرہ أن یرفع البساط ویصلی فی ذلک المکان أو یجلس.'' (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب احکام الجنائز، ٦١٥، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی