کوئی بھی جگہ وطن اقامت کب بنتی ہے؟

کوئی بھی جگہ وطن اقامت کب بنتی ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے گھر سے سفر شرعی کی مقدار کے فاصلے پر ایک سال گزارتا ہے، لیکن وہ ہر دوسرے ہفتے ( یعنی ۱۴  دن بعد) گھر آتا ہے، کیا وہ اس دوسری جگہ پر مسافرانہ نماز پڑھے گا یا مقیم کی؟ اس تمام عرصہ میں وہ ایک بار بھی پندرہ دن مکمل نہیں کرتا؟

جواب

وطن اقامت بننے کے لیے ایک دفعہ کم از کم پندرہ دن اقامت کی نیت کرنا ضروری ہے، اگر کسی بھی دفعہ پندرہ دن کی نیت سے قیام نہیں کیا تو سارے سال قصر کرنا ہو گا،لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر زید نے ایک مرتبہ پندرہ دن رہنے کی نیت کی ہے تو وہاں مقیم شمار ہوگا، نماز پوری پڑھنا ضروری ہے، اگر نہیں تو جتنا عرصہ بھی وہاں گزارے گا، مسافر شمار ہو گا اور نماز قصر پڑھے گا۔

''(قَوْلُہُ وَیَبْطُلُ وَطَنُ الْإِقَامَۃِ) یُسَمَّی أَیْضًا الْوَطَنَ الْمُسْتَعَارَ وَالْحَادِثَ وَہُوَ مَا خَرَجَ إلَیْہِ بِنِیَّۃِ إقَامَۃِ نِصْفِ شَہْرٍ.'' (الدر المختار، کتاب صلاۃ، باب صلاۃ المسافر ٢/١٣٢، سعید)

''(وَطَنُ) الْإِقَامَۃِ: وَہُوَ أَنْ یَقْصِدَ الْإِنْسَانُ أَنْ یَمْکُثَ فِی مَوْضِعٍ صَالِحٍ لِلْإِقَامَۃِ خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا أَوْ أَکْثَرَ.''(بدائع والصنائع ١/١٠٣، سعید)

''(قَوْلُہُ حَتَّی یَدْخُلَ مِصْرَہُ أَوْ یَنْوِیَ الْإِقَامَۃَ نِصْفَ شَہْرٍ فِی بَلَدٍ أَوْ قَرْیَۃٍ)۔۔۔وقید نصف شھر؛ لأن إقامۃ مادونھا لا توجب الإتمام.'' (البحرالرائق، کتاب الصلاۃ،٢/٢٣٢،رشیدیۃ)

''قَیَّدْنَا بِکَوْنِہِ انْتَقَلَ عَنْ الْأَوَّلِ بِأَہْلِہِ؛ لِأَنَّہُ لَوْ لَمْ یَنْتَقِلْ بِہِمْ، وَلَکِنَّہُ اسْتَحْدَثَ أَہْلًا فِی بَلْدَۃٍ أُخْرَی فَإِنَّ الْأَوَّلَ لَمْ یَبْطُلْ وَیُتِمُّ فِیہِمَا.'' (البحر الرائق، باب المسافر ٢/٢٣٩،رشیدیۃ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی