نئے سال کا جشن منانے کی شرعی حیثیت

نئے سال کا جشن منانے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نئے سال کے جشن منانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیا جشن منانا چاہیے؟

جواب

نئے سال کا جشن منانا یہ کوئی شرعی چیز نہیں ہے، خلفائے راشدین،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین وتبع تابعین رحمہم اللہ حضرات نے کبھی سال نو (نئے سال) کا جشن منانے کی کوشش نہیں کی، یہ اسلامی طریقہ نہیں بلکہ غیروں کا طریقہ اور شعار ہے، لہٰذا اسلام میں ثابت نہ ہونے اور اغیار کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے یہ جائز نہیں ہے۔
لما في سنن أبي داؤد:
’’عن إبن عمر رضي اللہ عنہما قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:˒˒من تشبہ بقوم فھو منھم˓˓‘‘.(کتاب اللباس،باب في لبس الشھرۃ،رقم الحدیث:4031،ص:799،دارالسلام).
وفي مرقاۃ المفاتیح:
’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :[من تشبہ بقوم] أي:من شبہ نفسہ بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ،أو بالفساق أو الفجار أو باھل التصوف والصلحاء الابرار،[فھومنھم]أي: في الإثم والخیر،قال الطیبی:ھذا عام في الخلق والشعار.....قلت:بل الشعار ھو المراد بالتشبہ لاغیر‘‘.(کتاب اللباس،الفصل الثاني،155/8،رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر:179/307