معتکف کا بغىر طمع كےپیسے لینا، دوران اعتکاف موبائل کا استعمال اورپیسے کے بدلے میں معتکف کا اعتکاف میں بیٹھنا

Darul Ifta

معتکف کا بغىر طمع كےپیسے لینا، دوران اعتکاف موبائل کا استعمال اورپیسے کے بدلے میں معتکف کا اعتکاف میں بیٹھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1۔ زید اعتکاف میں بیٹھا ہوا ہے محلے والے اس کو پیسے دیتے ہیں زید اس کا مطالبہ بھی نہیں کرتا ہے کیا زید کے لئے یہ پیسہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
2۔ بکر اعتکاف میں بیٹھا ہوا ہے بکر اگر موبائل استعمال کرے تو بکر کے لیے موبائل استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
3۔ عمرو کو اعتکاف میں اس شرط میں بیٹھا یا جائے کہ آپ کو 500 یا 1000 روپے دیں گے ، کیا یہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اگر عمرو ان پیسوں کو خرچ کرے تو اس کے لئے حلال ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ دل کی طمع کے بغیر اگر پیسے  مل جائیں، تو لینا جائز ہے، وگر نہ مناسب نہیں، لیکن اگر وہاں اعتکاف پر رقم دینے کا عرف ہو تو پھر لینا بالکل جائز نہیں۔
2۔ بقدر ضرورت جائز کاموں کے لئے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن دوران اعتکاف جس قدر ہو سکے اس کے استعمال سے اجتناب کیا جائے  ،تاکہ یہ قیمتی اوقات یکسوئی کے ساتھ عبادت میں گزارے جاسکیں۔
3۔ ناجائز ہے، اور عمرو کے لئے ان پیسوں کو خرچ کرنا بھی جائز نہیں، بلکہ جس نے یہ پیسے دیئے تھے اسے واپس کردئیے جائیں اگر وہ معلوم ہو، وگر نہ اس کی طرف سے ان پیسوں کو صدقہ کردیا جائے ۔
وفي التنویر مع الدر:
’’(لاتصح الإجارۃ و)...لا لأجل الطاعات،مثل(الأذان والحج والإمامۃ وتعلیم القرآن والفقہ)‘‘.
قال إبن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ:
’’قولہ: (ولا لأجل الطاعات) الأصل أن کل طاعۃ یختص بھا المسلم لایجوز الاستئجار علیھا عندنا...... ولأن القربۃ متی حصلت وقعت علی العامل،ولھذا تتعین أھلیتہ، فلایجوز لہ أخذ الأجرۃ من غیرہ کما في الصوم والصلوٰۃ‘‘. (کتاب الإجارۃ،مطلب الاستئجار علی الطاعات: ۹۳/۹: رشیدیۃ).
وفي صحیح مسلم:
عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه، قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: ”قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء، فأقول: أعطه أفقر إليه مني، حتى أعطاني مرة مالا، فقلت: أعطه أفقر إليه مني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذه، وما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه، وما لا فلا تتبعه نفسك‘‘. (كتاب الزكوة، باب جواز الأخذ بغير سوال ولا تطلع: ١/٣٣٤، ط: قديمى).
وفي التنویر مع الدر:
’’(وتكلم إلا بخير) وهو مالا إثم فيه، ومنه المباح عند الحاجة إليه لا عند عدمها‘‘.
قال ابن عابدين رحمه الله تعالى:
’’بأنه لاشك في عدم استغناءه عن المباح عند الحاجة إليه، فكيف يكره له مطلقا۱ھـ.والمراد ما یحتاج إلیہ من أمر الدنیا، إذا لم یقصد بہ القربۃ، وإلا ففیہ ثواب‘‘.(باب الإعتکاف:۵۰۸/۳، رشیدیۃ).فقط.واللہ اعلم بالصواب

115/193-195
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

footer