مسلم ممالک میں غیر مسلموں کا اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حکم

مسلم ممالک میں غیر مسلموں کا اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلم ملک میں غیر مسلموں کو اپنے دین پر چلنے کی آزادی کس حد تک ہے؟کیا ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہے؟

جواب

مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو اپنے دین پر چلنے کی اورکھلے مقامات پر انہیں تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، حتی کہ وہ اپنی مذہبی کتاب بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے۔
لما في أحکام أہل الذمۃ لابن قیم الجوزیۃ:
’’(قولہم: ولا نرفع أصواتنا في الصلاۃ ولا القراء ۃ في کنائسنا مما یحضرہ المسلمون) من شعار الکفر منعوا من إظہارہ، قال أبو الشیخ: حدثنا عبد اللہ بن عبد الملک الطویل۔۔۔۔۔۔ قال: کتب عمر بن عبد العزیز أن امنعوا النصاری من رفع أصواتہم في کنائسہم، فإنہا أبغض الأصوات إلی اللہ عز وجل وأولاھا أن تخففوا‘‘.(فصل: قولہم: ولا نرفع أصواتنا في الصلاۃ ولا القراء ۃ في کنائسنا مما یحضرہ المسلمون، ص: ٤٤٨: المکتبۃ العصریۃ)
وفي إعلاء السنن:
’’ومن جملۃ الشروط: ما یعود بإخفاء منکرات دینھم وترک إظہارہا کمنعھم من إظہار الخمر والناقوس والنیران والأعیاد ونحو ذلک، ومنہا ما یعود بإخفاء شعائر دینھم کأصواتھم بکتابھم‘‘.(باب شروط أہل الذمۃ وما یجوز لہم فعلہ في دارنا وما لا یجوز، ١٢/ ٥٢٣: إدارۃ القرآن).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر : 173/155