انعامی بانڈ کی رقم سے خریدے گئے مکان میں وصیت کرنے کا حکم

زندگی میں اپنی جائیداد کی وصیت کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ انعامی بانڈز کی رقم سے خریدے گئے مکان کی میں مرنے سے پہلے وصیت کرنا چاہتی ہوں ،کیا میری وصیت جائز ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں دونوں مکانوں کی قیمت لگائی جائے، اور پھر انعامی بانڈز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے عوض مکان کا جو حصہ آتا ہے، وہ ثواب کی نیت کے بغیر اپنی زندگی میں غریبوں اور ضرورت مندوں میں بتائے بغیر تقسیم کریں، اور مکان کا جو حصہ اپنی ذاتی رقم کے عوض میں آتا ہے ،اس کو اپنی جائیداد کے ساتھ ملا کر حساب لگائیں، لہٰذا اگر یہ حصہ آپ کی پوری جائیداد کا تیسرا حصہ بنتا ہے،تو اس کی وصیت کرسکتی ہیں، اور اگر اس سے زیادہ بنتا ہو تو اس کو منہا کر کے وصیت کریں۔
لما في التنویر مع الدر:
’’إنما یکفر إذا تصدق بالحرام القطعي‘‘.
’’قولہ: (إذا تصدق بالحرام القطعي) أي مع رجاء الثواب الناشئ عن استحلالہ کما مر فافھم‘‘. (کتاب الزکاۃ، مطلب في التصدق من المال الحرام:261/3، رشیدیۃ)
وفي بدائع الصنائع:
’’وأما الذي یرجع إلی نفس القرض: فھو أن لایکون فیہ جر منفعۃ، فإن کان لم یجز، نحو ما إذا أقرضہ دراھم غلۃ، علی أن یرد علیہ صحاحا، أو أقرضہ وشرط شرطا لہ فیہ منفعۃ؛ لما روي عن رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم- أنہ ’’نھی عن قرض جر نفعا‘‘؛ ولأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربا؛ لأنھا فضل لا یقابلہ عوض، والتحرز عن حقیقۃ الربا، وعن شبھۃ الربا واجب ھذا إذا کانت الزیادۃ مشروطۃ في القرض، فأما إذا کانت غیر مشروطۃ فیہ ولکن المستقرض أعطاہ أجودھما، فلا بأس بذلک؛ لأن الربا اسم لزیادۃ مشروطۃ في العقد، ولم توجد، بل ھذا من باب حسن القضاء، وأنہ أمر مندوب إلیہ‘‘. (کتاب القرض، فصل في الشروط: 597/10، رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:178/176