ربیع الاول کے جلوس میں شرکت کا حکم

ربیع الاول کے جلوس میں شرکت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ربیع الاول کے جلوس نکالنا اور خود اس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مروجہ میلاد النبی ﷺ کا جلوس نکالنا اور اس میں شرکت کرنا،قرآن وحدیث،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی سے بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا،لہٰذا یہ بدعت اور خرافات میں سے ہے، ان سے اجتناب ضروری ہے۔
لما في مرقاۃ المفاتیح:
’’من أصر علی مندوب وجعلہ عزما ولم یعمل بالرخصۃ فقد أصاب منہ الشیطان من الإضلال فکیف من أصر علی بدعۃ أو منکر‘‘.(کتاب الصلاۃ،۳۱/۳،رشیدیۃ).
وفي الجامع الصحیح للبخاري:
’’عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت،قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من أحدث في أمرنا ھٰذا مالیس فیہ فھو رد‘‘.(کتاب الصلح،باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود،رقم الحدیث:2697،ص:440،دارإبن کثیر).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:177/306