ربیع الاول کا چاند دیکھ کر مبارک باد دینے کا حکم

ربیع الاول کا چاند دیکھ کر مبارک باد دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ربیع الأول کا چاند دیکھ کر مبارک باد دینا کیسا ہے؟شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں ربیع الاول کا چاند دیکھ کر مبارک باد دینا ثابت نہیں،البتہ قمری مہینے کا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:

’’اللھم ادخلہ علینا بالأمن والإیمان والسلامۃ والإسلام ورضوان من الرحمٰن وجوار من الشیطان‘‘.(معجم الأوسط)

لما في الدر مع الرد:
’’وکل مباح یؤدي إلیہ فمکروہ‘‘.
’’(قولہ:فمکروہ)الظاھر أنھا تحریمیۃ؛لأنہ یدخل في الدین مالیس منہ‘‘.(باب سجود التلاوۃ،مطلب في سجدۃ الشکر:2/720،رشیدیۃ)
وفیہ أیضاً:
’’إذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترک السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ‘‘.(باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،مطلب إذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترک السنۃ أولیٰ:2/493،رشیدیۃ).
وفي معجم الأوسط:
’’حدثنا محمد بن علي الصائغ،قال:نا مھدي بن جعفر الرملي، قال:نا رشدین بن سعد، عن أبي عقیل زھرۃ بن معبد، عن جدہ عبداللہ بن ھشام قال:کان أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم یتعلمون ھذا الدعاء إذا دخلت السنۃ أو الشھر:اللھم أدخلہ علینا بالأمن والإیمان،والسلامۃ والإسلام،ورضوان من الرحمٰن وجوار من الشیطان‘‘.(360/4،رقم الحدیث:6241،دارالکتب العلمیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:181/34