ایک سے زائد سجدہ تلاوت کی ادائیگی کا طریقہ

ایک سے زائد سجدہ تلاوت کی ادائیگی کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کے ذمہ لا تعداد سجدہ تلاوت واجب  ہیں ،جو تلاوت کےوقت اس نے ادا نہیں کیے،اب  ان کی قضا کی کیا صورت ہوگی ؟ کیا ایک مرتبہ سجدہ کرکے ان سب کی نیت کی جاسکتی ہے،یاا اور کوئی طریقہ بھی ہے؟

جواب

روزانہ کچھ نہ کچھ سجدے ادا کریں ، جب یہ اطمینان ہو جائے کہ کل ادا ہو گئے تو چھوڑ دیں، ایک مرتبہ سجدہ کرنے سے ایک ہی سجدہ ادا ہوگا، لہٰذا ہر آیت سجدہ کے لیے الگ الگ سجدہ کرنا ہو گا، متعدد سجدوں کو ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ سجدہ کرنے کے بعد اگر دوبارہ کھڑے ہو کر سجدہ کریں تو افضل ہے اور اگر بیٹھ کر دوسرا سجدہ کریں تو اس سے بھی سجدہ ادا ہو جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"(وهي على التراخي) على المختار ويكره تأخيرها تنزيها، ويكفيه أن يسجد عدد ما عليه بلا تعيين ويكون مؤديا وتسقط بالحيض والردة (إن لم تكن صلوية) فعلى الفور لصيرورتها جزءاً منها.

 (قوله: على المختار) كذا في النهر والإمداد، وهذا عند محمد وعند أبي يوسف على الفور هما روايتان عن الإمام أيضا كذا في العناية قال في النهر: وينبغي أن يكون محل الخلاف في الإثم وعدمه حتى لو أداها بعد مدة كان مؤديا اتفاقا لا قاضيا. اهـ. قال الشيخ إسماعيل وفيه نظر أي لأن الظاهر من الفور أن يكون تأخيره قضاء.قلت: لكن سيذكر الشارح في الحج الإجماع على أنه لو تراخى كان أداء مع أن المرجح أنه على الفور ويأثم بتأخيره فهو نظير ما هنا، تأمل.(قوله: تنزيهاً) لأنه بطول الزمان قد ينساها، ولو كانت الكراهة تحريميةً لوجبت على الفور و ليس كذلك، ولذا كره تحريماً تأخير الصلاتية عن وقت القراءة إمداد واستثنى من كراهة التأخير ما إذا كان الوقت مكروها كوقت الطلوع. (رد المحتار، باب سجود التلاوۃ، ٢/١٠٣،١٠٤، سعید)

''بِخِلَافِ غَيْرِ الصَّلَوِيَّةِ، فَإِنَّهَا وَاجِبَةٌ عَلَى التَّرَاخِي عَلَى مَا هُوَ الْمُخْتَارُ، وَقِيلَ: بَلْ عَلَى الْفَوْرِ أَيْضًا''.(فتح القدير: 2 / 18).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی