بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ہنڈی کے کاروبار کا حکم

ہنڈی کے کاروبار کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہنڈی کے کاروبار کا کیا حکم ہے؟ مثلا ایک بھائی ملائیشیا میں ہے، دوسرا پاکستان میں، ملائیشیا میں جو بھائی ہے اس کے پاس کوئی پاکستانی شخص آیا اور اس نے کہا کہ ہمارے گھر اتنے پیسے (مثلاً ایک لاکھ روپیہ) بھیج دو، تو وہ اس سے پوچھتا ہے کہ ملائیشیا کی کرنسی/رنگئی ابھی دوگے یا بعد میں، اگر ابھی دیتا ہے تو تین ہزار رنگئی وصول کرتا ہے، اگر ہفتہ دو ہفتہ بعد دیتا ہے، تو تین ہزار ایک سو رنگئی اس نے دینے ہوتے ہیں، اور وہ شخص ملائیشیا سے پاکستان اپنے بھائی کو اطلاع کرتا ہے کہ آپ ایک لاکھ روپیہ فلاں شخص کو دو تو وہ بھائی یہاں وہ پیسے مطلوبہ شخص کو پہنچا دیتا ہے، کیا یہ صورت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟شریعت مطہرہ کے حکم سے مطلع فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ ہنڈی کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھیجنا بعض شرائط کے ساتھ جائز ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ حکومت کی طرف سے کوئی ممانعت نہ ہو، اگر کسی حکومت نے اپنے شہریوں کے مذکورہ طریقے سے رقم بھیجنے پر پابندی لگا دی تو پھر اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے؟ اس لیے کہ حکومتی قوانین رفاہ عامہ کے لیے ہوتے ہیں، اور ہر شہری کا اپنی حکومت سے معاہدہ ہوتا ہے کہ ہر وہ قانون جو قرآن اور سنت کے خلاف نہ ہو اس کا پابند رہے گا۔

۲۔ مجلس عقد میں احد البدلین پر قبضہ لازم اور ضروری ہے، یعنی دو ثمنوں میں سے ایک پر قبضہ ہو، مثلا: صورت مسئولہ میں مذکور شخص کا ملائیشیا میں رنگئی وصول کرنا اور پاکستان میں روپے دینا، تو ملائیشیا میں عقد کے اندر ہی رنگئی پر قبضہ کرنا لازم اور ضروری ہے، اس لیے کہ پاکستانی روپے اس کے ذمے دین ہوں گے، اگر رنگئی پر قبضہ نہیں کرے گا تو ملائیشیا کی رنگئی بھی اس کے ذمے دین ہوں گے جو کہ بیع الکالی بالکالی کی صورت بن جائے گی، اور وہ جائز نہیں ہے۔

۳۔ کرنسی کا ریٹ جو سرکاری سطح پر مقرر ہو اسی کے مطابق تبادلہ کیا جائے، اس لیے کہ عموماً سرکاری ریٹ بازاری ریٹ سے کم ہوتا ہے، مثلا: اگر سرکاری ریٹ: 15 ریٹ ہے، تو بازاری ریٹ: 17 روپے ہوگا یا اس سے بھی کچھ زائد، اب اگر بازاری ریٹ پر تبادلہ کیا جائے تو اس میں سود کا حیلہ ہوجائے گا جو کہ جائز نہیں ہے، اسی طرح بازاری ریٹ وقتاً فوقتاً مختلف ہوتا رہتا ہے، کسی ایک جگہ پر نہیں رہتا، تو اس میں نزاع کا بھی قوی اندیشہ ہے، لہٰذا سرکاری ریٹ کے علاوہ بازاری ریٹ پر تبادلہ کرنا بھی درست نہیں ہے۔

مذکورہ بالا تمام شرائط کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہنڈی کے ذریعے رقم بھیجنا جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔

باقی مختلف ممالک کی کرنسیوں کے درمیان کمی زیادتی کرنا مختلف الاجناس ہونے کی حیثیت سے جائز ہے، بشرطے کہ احد البدلین پر قبضہ ہو، لہٰذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ مسئلے کے مطابق مجلس عقد میں تین ہزار رنگئی وصول کرنا یا اس سے بھی زائد جائز ہے، لیکن یہ شرط لگانا کہ“ہفتہ یا دو ہفتہ بعد اگر پیسے دوگے تو اتنے دوگے” ، یہ ادھار کا معاملہ ہے جو کہ بیع الکالی بالکالی کی صورت بن رہی ہے، اور سود کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہے۔

لما في تکملة عمدة الرعایة:

ويجب أن يعلم أن التي في زماننا المسماة في لساننا (بهنڈي مني آرڈر) ليس من هذا ولا له حكم السفاتج؛ لأن السفاتج كانت لسقوط خطر الطريق وذا للوصول – فإن قلت علة الكراهة هي النفع سواء كان لسقوط الخطر أو للوصول، قلت: بلى، ولكن الخطر مما لا يجوز الكفالة به ولا أجر عليه؛ لأنه ليس في وسع الإنسان إلا دفع اللصوص والحفظ إنما بفضل الله تعالى، وأما الإيصال تحل الأجرة عليه ويمكن العهدة عليه، فلا يلزم من النهي عن نفع سقوط الخطر كراهة أجرة الإيصال. (7/107، 108، أحسن الفتاوى، باب الربا والقمار، ايج ايم سعيد)

وفي المبسوط:

(وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم، ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع، فالبيع جائز) لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها، ووجودها معًا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد، كما لا يشترط ذلك في الدراهم والدنانير، وإن استقرض الفلوس من رجل ودفع إليه قبل الافتراق أو بعده، فهو جائز إذا كان قد قبض الدراهم في المجلس؛ لأنهما قد افترقا عن عين بدين، وذلك جائز في عين الصرف، وإنما يجب التقابض في الصرف بمقتضى اسم العقد، وبيع الفلوس بالدراهم لبس بصرف، وكذلك لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراهم. (14/32، باب البيع بالفلوس، كتاب الصرف، المكتبة الغفارية)

وفي القرآن المجيد:

﴿يا أيها الذين آمنوا اطيعوا الله وأطيعوا الرسول أولى الأمر منكم﴾. (النساء: 59).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 155/32