بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنے کا حکم

ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ مسجد میں ٹوپی کے نماز پڑھتے ہیں،ان میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اہل حدیث مسلک کے ہیں، ہمارے ہاں نماز بغیر ٹوپی کے ہوتی ہے ،جب کہ کچھ لوگ حنفی مسلک کے ہیں،لیکن ٹوپی کے بغیر نماز پڑھتے ہیں، مولانا صاحب یہ بتائیں کہ کیا بغیر ٹوپی کے نماز ہوجاتی ہے؟

جواب

ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنا مکروہ ہے،حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا اکثر وبیشتر معمول بلکہ دائمی عادت مبارکہ عمامہ یا ٹوپی کے ساتھ سر ڈھانک کر نماز پڑھنے کی تھی، ننگے سر نماز کا پڑھنا سوائے اکا دکا واقعات کے ثابت نہیں، اہل حدیث کا عمل اس کے بالکل برعکس ہے، عمامہ کبھی نہیں پہنتے الا ماشاء اﷲ اور اکثر ننگے رہتے ہیں، جب کہ عمامہ اور ٹوپی تاریخی طور پر بھی مسلمانوں کے لباس کا حصہ ہے اور اقوام عالم میں ان کا امتیازی لباس شمار ہوتا ہے،اﷲ تعالی عقل سلیم نصیب فرمائے۔

"(وصلاته حاسراً) أي كاشفاً (رأسه للتكاسل)، ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر.

(قوله: للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمراً مهماً في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاوناً بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار؛ لأنه كفر شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز". (الدرالمحتار، کتاب الصلوٰۃ ٦٤١/١، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی