بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ولاالضالین کوولاالدالین پڑھنےکا حکم

ولاالضالین کوولاالدالین پڑھنےکا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ولاالضالین یہ لفظ پڑھنے میں ض کے مشابہ ہے یا دال کے یا اس کی کوئی اور آواز ہے؟

جواب

جمہور قراء وفقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ مخرج حافہ لسان اور اس کے متصل کی داڑھیں ہیں اور اس کی آواز ظاء معجمہ  کی آواز کے مشابہ ہے، دال مہملہ کے مشابہ نہیں،فقہ اور قراء ت کی کتابوں میں اس کی صراحت موجود ہے اور تفصیل مفتی محمد شفیع رحمۃ اﷲ علیہ کے جواہر الفقہ کے ص٣٢٧/١ سے لے کر ٣٤٥/١ تک ملاحظہ فرمائیں۔

لما فی الخانیۃ :

"و إن ذكر حرفًا مكان حرف و غير المعني، فإن أمكن الفصل بين الحرفين من غير مشقة كالطاء مع الصاد فقرأ: الطالحات مكان الصالحات، تفسد صلاته عند الكل، و إن كان لايمكن الفصل بين الحرفين الا بمشقة كالظاء مع الضاد و الصاد مع السين، و الطاء مع التاء، اختلف المشائخ فيه، قال أكثرهم لاتفسد صلاته ...و لوقرأ الدالين بالدال تفسد صلاته". ( كتاب الصلاة، فصل في القراءة في القرآن،١ / ١٢٩ - ١٣١،ط:دارالكتب العلمية)

''فمن حافۃ اللسان من أقصاھا إلی الأضراس الضاد.'' (الحیط البرھانی، کتاب الصلاۃ، ١/٣٦٢، المکتبۃ الغفاریۃ، کوئتہ)
''والضاد من حافتہ إذ ولیا: الأضراس من أیسر أو یمناھا.'' (متن المقدمۃ الجزریۃ، باب مخارج الحروف ١٢، مکتبۃ القرأۃ ،لاہور).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی