بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نیت کرتے ہوئے ظہر کی بجائے عصر کانام لینا

نیت کرتے ہوئے ظہر کی بجائے عصر کانام لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے دوران یاد آیا کہ نیت غلط کی ہے یعنی ظہر کے بجائے عصر کہہ دیا ہے، اب نماز میں نیت درست کر لے یا کیا کرے اور جو نیت شروع کرنے سے پہلے کی تھی اس کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نیت میں اصل چیز عمل قلب(دل کا فعل ) اور ارادہ ہی ہے، یعنی ارادے کا اعتبار ہو گا اور وہی نیت درست ہو گی جو دل میں ہو ،اگرچہ زبان سے کچھ اور کہے، مثلاً اگر وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہے اورنیت اور ارادہ بھی ظہر ہی کا  ہے،لیکن اس نے زبان سے عصر کا نام لیا تو اس کی نیت معتبر ہو گی اور نماز درست ہوگی، لیکن اگر ظہر کی نماز پڑھنا چاہے اورنیت اورارادہ میں عصر ہے اور زبان سے  بھی عصر کا نام لے رہا ہے تو نماز درست نہیں ہوگی، بلکہ نماز توڑ کر از سر نو  نیت کرنا لازم اور ضروری  ہے۔

'' والمعتبر فیھا عمل القلب اللازم للإرادۃ، فلا عبرۃ للذکر باللسان إن خالف القلب؛ لأنہ کلام لافیہ.''

قال ابن عابدین۔ رحمہ اﷲ تعالی:(قولہ: إن خالف القلب) قلو قصد الظھر وتلفظ بالعصر سھواً، أجزاہ کما فی الزاھدی قھستانی.'' (رد المحتار، کتاب الصلوٰۃ، باب شروط الصلوٰۃ، ١/٤١٥،٤٢٠، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی