نماز کے آخری قعدہ میں پڑھی جانے والی دعا کی خصوصیت

نماز کے آخری قعدہ میں پڑھی جانے والی دعا کی خصوصیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے آخری قعدہ میں درود شریف کے بعد عام طور پر "رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ” یہ دعا  پڑھی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ دیگر دعاؤں کے مقابلہ میں اس کی وجہ ترجیح کیا ہے ؟ اور یہ کس حدیث سے ثابت ہے؟ حوالہ درکار ہے ؟

جواب

نماز کے آخری قعدہ میں جو دعا درود شریف کے بعد "رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ” پڑھی جاتی ہیں یہ دعا حدیث شریف کی  نہیں ، بلکہ قرآن مجید کی دعا ہے،جو سورہ ابراہیم پارہ۱۳  میں ہے آیت نمبر۴۰،۴۱ہے اور وجہ ترجیح بظاہر یہ ہے کہ یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت پڑھی جب کہ آپ نے اپنے بچوں کو بامر الہٰی لق و دق میدان میں چھوڑنے کی قربانی بارگاہ الہی میں پیش کر دی، پھر آپ نے اپنے لیے اور تمام اولاد کے لیے انعام مانگا کہ وہ سب نماز قائم کرنے والے بنیں ، لہٰذا کوئی شخص اگر اس دعا کو خصوصیت سے مانگے تو کوئی حرج نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی