بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز جنازہ میں ہاتھ کب چھوڑے جائیں

نماز جنازہ میں ہاتھ کب چھوڑے جائیں

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نماز جنازہ میں چوتھی تکبیر کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے ہاتھوں کو چھوڑنا چاہیے،یا سلام کے بعد ؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں دونوں صورتیں درست ہیں ،البتہ سلام کے بعد ہاتھوں کو چھوڑنا بہتر ہے،اسی پر ہمارے اکابر کا عمل رہا ہے۔

لمافي الحلبی کبیری:

ثم الوضع سنة لكل قيام فيه قراءة،فيضع حالة الثناءوالقنوت وصلاة الجنازةعندهما.(كتاب الصلوة،فصل في صفة الصلوة،ص:301،ط:رشيدية)

وفي خلاصة الفتاوى:

ولا يقعد بعد تكبير الرابع؛ لأنه لا يبقى ذكر مسنون حتى يقعد، فالصحيح أنه يحل اليدين ثم يسلم تسليمتين، هكذا في الذخيرة.(كتاب الصلوة،فصل:إذا أراد الشروع:2-1225،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 175/150،154