منفرد (تنہا)آدمی کا نماز سے پہلے اقامت کہنے کا حکم

منفرد (تنہا)آدمی کا نماز سے پہلے اقامت کہنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلےکے بارے میں کہ زید مسجد میں آیا  تو جماعت ہو چکی تھی،اب اُسے اقامت کہنی ہو گی،یا  نہیں؟

جواب

اگر اکیلا نماز پڑھنے والا ہو تو بغیر اذان واقامت سے بھی بلاکراہت نماز ہوجاتی ہے۔

”وکرہ ترکہما للمسافر لالمصل في بیتہ في المصر“اي لایکرہ ترکہما لہ والفرق بینہما أن المقیم إذا صلی بدونہما حقیقة فقد صلی بہما حکماً، لأن الموٴذن نائب عن أہل المحلة فیہما فیکون فعلہ کفعلہم، أما المسافر فقد صلی بدونہما حقیقة وحکماً، لأن المکان الذي ہو فیہ لم یوٴذن فیہ أصلا لتلک الصلاة... ”وندبا لہما“ اي الأذان والإقامة للمسافر والمصلي في بیتہ في المصر لیکون الأداء علی ہیئة الجماعة(البحر الرائق: ۱/۴۶۱، زکریا).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی