بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مقتدیوں کا اقامت کے وقت بیٹھے رہنے کا حکم

مقتدیوں کا اقامت کے وقت بیٹھے رہنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ جب اقامت کہی جائے تو بیٹھ جائیں، جب تک امام مصلیٰ  پرکھڑانہ ہو اور مکروہ ہے اس کے لیے انتظار کرنا کھڑا ہو کر لیکن بیٹھ جائے پھر اسی وقت کھڑا ہو جب مؤذن حی علی الفلاح پر پہنچے (درمختار جلد اوّل)نیز لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی قول  امام اعظم ابو حنیفہ کا ہے ۔ (یعنی حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا)

جواب

امت میں یہ کسی کا مذہب نہیں کہ امام اقامت کے وقت باہر سے آکر مصلی پر بیٹھ جائے اور بیٹھنے کو ضروری سمجھنے اور کھڑے ہونے والے مقتدیوں کو کھڑے ہونے سے روکے اور ان کے عمل کو بُرا اور مکروہ سمجھے، خود امام ابوحنیفہ اور فقہائے کرام اور مفتیان عظام میں سے کسی نے بھی پہلے کھڑے ہونے کو مکروہ نہیں کہا، اس لیے کہ ابتداء اقامت میں کھڑا ہونا خلفاء راشدین او رتمام صحابہ کرام کے عمل ثابت ہے۔

اور امام ابوحنیفہؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ حی علی الفلاح او رقدقامت الصلوٰۃ پر کھڑا ہونا چاہیے ،اور اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ لفظ حی علی الفلاح پر کھڑا ہونے کا امر ہے، اس لیے کھڑا ہونے کی طرف تیزی کرنی چاہیے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امر کے بعد کھڑا  نہ ہونا خلاف ادب ہے نہ یہ کہ اس سے پہلے کھڑا ہونا خلاف ادب ہے کیوں کہ پہلے کھڑا ہونے میں تو اور زیادہ تیزی پائی جاتی ہے یہ تمام نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث سے ثابت ہے ۔

''عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی.'' (مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب حتی یقوم الناس للصلوٰۃ ٢٢٠، قدیمی)

''وإن دخل عن قدام، قالوا: (حین یقع بصرھم علیہ) وشروع الإمام (فی الصلوٰۃ) قد قیل: قدقامت الصلوٰۃ.''(الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ، ١/٤٧٩، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی