بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسنون اعتکاف سے متعلق مسائل

مسنون اعتکاف سے متعلق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ان مسائل کے بارے میں کہ۱۔ مسنون اعتکاف کو توڑ دینے سے اس کی قضاء واجب ہے یا نہیں؟

۲۔ ایک عورت مسنون اعتکاف کرنا چاہتی ہے، لیکن ایک جگہ بیٹھنا اس کے لیے مشکل ہے، جیسے گرم علاقوں میں دن کو کمرے میں اور رات کو کمرے میں رہنا ممکن نہیں ہوتا تو اس کے لیے مسنون اعتکاف کرنے کی کیا صورت ہے؟

یا اسی طرح ایک عورت مسنون اعتکاف کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ گھر والوں کے لیے کھانا بھی بناتی ہے، اور کچن الگ ہے، اور اعتکاف کے لیے بیٹھنے کی جگہ الگ ہے، تو اس عورت کے لیے اعتکاف کی کیا صورت ہے؟شریعت مطہرہ کے حکم سے مطلع فرمائیں۔

جواب

۱۔ ایک دن اور ایک رات (24گھنٹے) کی قضاء واجب ہے۔

۲۔ عورت کا اپنے اعتکاف کی جگہ سے گرمی کی وجہ سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے اس لیے پہلے سے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

جو عورت گھر والوں کے لیے کھانا بناتی ہے وہ اعتکاف میں نہ بیٹھے اگر بیٹھ گئی اور حالت اعتکاف میں کھانا پکانے کے لیے اپنی جگہ سے نکل گئی، تو اس پر قضاء لازم ہے، اگر کھانا پکانے والا کوئی نہ ہو تو جو جگہ اعتکاف کے لیے متعین کی ہے، وہاں پر پکا سکتی ہے۔ (کذا فی فتاوی محمودیہ: ۱۰/۲۵۱)

لمافي الدر المختار:

وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع ..... والحاصل: أن الوجه يقتضي لزوم لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه، تأمل.

وفي البحر:

قوله: (فإن خرج ساعة بلا عذر فسد) لوجود المنافي أطلقه شمل القليل والكثير وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا يفسد إلا بأكثر من نصف يوم وهو الاستحسان لأن في القليل ضرورة. (كتاب الصوم، باب الاعتكاف: 2/529، رشيدية)

وفي البناية:

وأما الحاجة فلحديث عائشة قالت: كان رسول الله إذا اعتكف يدلى إلى رأسه فارجله وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة الإنسان (ولأنه معلوم وقوعها) ..... لأن الضرورات تبيع المحظورات ... (لأن ما ثبت بالضرورات يتقدر بقدرها) أي بقدر الضرورة. (باب الاعتكاف: 4/387، المكتبة الحقانية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 155/168،171