بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مستقبل کے صیغے کے ساتھ طلاق دینے کا حکم

مستقبل کے صیغے کے ساتھ طلاق دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید تین ماہ  کے بعد اپنے گھر لوٹ آیا  رات کے وقت  ،صبح ہوتے ہی  زید کے بھائی ابوبکر  اور عمر  اور ان کی والدہ نے زید کو بلایا  ،  اور زید کے بھائیوں نے کہا زید سے کہ ہم تیرا پہلی فرصت میں قتل کریں گے ، زید نے وجہ پوچھی ،جواب :تیری بیوی تہمت زنی کرتی ہے آپس میں لڑواتی ہے ، ہماری بیوی سے لڑتی ہے ،جس کی وجہ سے گھر کے ماحول میں بد مزگی  پیدا ہوتی ہے ،زید نے بتایا کہ میں وقتاً فوقتاً سمجھاتا رہتا ہوں  مگر زید   نے اسی وقت اپنی بیوی کو بلایا اور کہا   کہ تم نے فلاں بھابھی سے بات نہیں کرنی نہ اشارتاً اور نہ کنایۃ ًً ، اگر آپ نے بات کی ،تو پھر میری طرف سے ایک نہیں تین کا اعلان ہوگا  ،اسی پر مجلس برخواست ہوئی  ،سارے آگے پیچھے ہوگئے اور چلے گئے،  زید کی والدہ نے دوسرے کمرے میں آکر پوچھا  ،تم نے طلاق کی بات کی ہے ؟ زید نے کہا نہیں امی محض ڈرانے کے لئے بولا (نوٹ : اس سے پہلے تذکرہ طلاق یا خیال طلاق موجود نہیں تھا  )۔

دو دن کے بعد زید کی بیوی نے کہا  ،اس دن آپ نے کیا بات کہی تھی ؟ ایک نہیں تین ؟طلاق کی بات کی تھی  ؟زید نے کہا نہیں بیگم چھوڑ و ان سب  کو ،بس شور کرتے رہتے ہیں،  بس آپ نے ایک ماہ تک بات نہیں کرنی  ،تا کہ ان کو پتہ چل جائے     ،زید کے سسر آگئے کہنے لگے  آپ نے میری بیٹی کو کیا کہا   ،زید نے کہا کہ  اگر فلاں سے بات  کی  ایک نہیں تین کا اعلان ہوگا  ،سسر نے کہا زید سے کہ آٓپ   نے کہا ہے کہ  “اعلان ہے”  زید نے کہا “اعلان ہوگا” کہا ہے،  کافی اصرار  کے بعد کہنے لگے   زید سے کہ میری بیٹی کو طلاق دو  ،   زید  نے کہا کہ میں طلاق نہیں دیتا  ،زید نے پوچھا کہ طلاق کیوں مانگتے ہو  ؟ جواب : آپ میری بیٹی کی تعظیم وتکریم نہیں کرتے  ،اسے  بے عزت  کرتے ہو  ،اس سے  ناراض ہوتے ہو    ،زید نے کہا کہ مسئلہ استحقاق کا ہوتا    ،  تو میری طرف سے  معذرت   اور پاؤں پر ہاتھ رکھ دیتا  ، استحقاق  سے مراد (1)ایسا مارنا جس کی وجہ سے نشان موجود ہو  (2) وجو ب نکا ح کے اسباب  میں سے کسی چیز کی کمی ہو   ، اب بیٹی کو بلایا  اور کہا کہ آپ منھی عنہ(جس سے اس کو روکا گیا ) سے بات کریں،   آگے دیکھا جائے گا  ،پھر منھی عنہ سے بات سنائی گئی،بات کی نہیں،  مطلب :جس سے روکا تھا  اس نے دیکھا تک نہیں  اوروہ  نام لے کر بات کرکے چلی گئی۔ 

سسر کے اعتراض کا جواب  :زید کی بیوی غیر شرعی امور پر عمل کرتی ہے،  اور زید کو مجبور کرتی ہے،  اور ایک عالم کی بیوی ہوتے ہوئے   گانے سنے ، فلم ڈرامے ٹک ٹاک چلائے  ،صرف چلائے ہی نہیں   ،بلکہ وہ اپنی ٹک ٹاک  بنائے   ،پھر مولوی کو مرجانا چاہیئے  ۔

زید کی بیوی کا دو دن کے بعد پوچھنے کی وجہ  : مجلس  کی گفتگو  اور زید کے الفاظ سرائیکی زبان میں تھے اور زید کی بیوی سرائیکی نہیں سمجھتی تھی  الفا ظ یہ تھے (ہک نہ ترائے دا اعلان تیسی )مطلوب حکم الفاظ:  اگر آپ نے فلاں سے بات کی اشارتاً یا کنایۃً  پھر میری طرف سے ایک نہیں تین کا اعلان ہوگا   ۔

جواب

واضح رہے کہ طلاق وغیرہ کے  وقوع کے لئے  ماضی یا حال کا صیغہ ہونا  ضروری ہے ، مستقبل کے صیغے  سے  طلاق   واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً زید نے (ہک نہ ترائے  دا اعلان تیسی )طلاق کے الفاظ استعمال کئےہیں  ،توان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ، اس لئے کہ یہ وعدہ اور دھمکی ہے ،طلاق نہیں  اگر چہ وہ عورت اس منھی عنھا (جس سے اس کو روکا گیا )سے بات بھی کرلے ۔

 لما في رد المحتار:

" بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع ؛لأنه وعد .جوهرة.ما لم ىتعارف أو تنو الإنشاء. "(كتاب الطلاق ،باب تفويض الطلاق :4/548،ط:رشيدية)

وفي البحر الرائق:

" قيد بالإختيار؛ لأنه لو قال: طلقي نفسك فقالت: أنا أطلق، لا يقع،وكذا لو قال لعبده :أعتق رقبتك فقال أنا أعتق لا يعتق لأنه لا يمكن جعله إخبارا عن طلاق َقائم أو عتق قائم لأنه إنما يقوم باللسان."(كتاب الطلاق ،باب تفويض الطلاق :3/545،ط:رشيدية)            

وفي خلاصة الفتاوى:

" إمرأة قالت لزوجها:"من باتو نمى باشم"فقا ل الزوج "مباش"فقالت :" طلاق بدست تست  مرا طلاق کن" فقال الزوج :" کنم "لأنه إستقبال ،تحقيقا للشك .وفي المحيط  :لو قال بالعربية :أطلق لا ىكون طلاقا إلا إذا غلب إستعماله في الحال لايكون طلاقا. "(كتاب النكاح ،جنس آخر :في ألفاظ الطلاق:2/81،ط:رشيدية)

وفي تنقيح الحامدية :

" صيغة المضارع لا يقع الطلاق  بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال ،كما صرح به الكمال بن الهمام . "(كتاب الطلاق :1/38،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 176/174