بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر اپنے شہرکی حدود میں داخل ہونے سے پہلے قصر کریں گے

مسافر اپنے شہرکی حدود میں داخل ہونے سے پہلے قصر کریں گے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں بحری جہاز میں ملازم ہوں ہم لوگ ملازمت کے سلسلے میں باہر ملکوں میں جاتے رہتے ہیں،گزشتہ بحری سفر کے اختتام پر جب ہمارا جہاز کراچی پہنچا تو ہم لوگ سیدھے بندرگاہ پر آنے کی بجائے منوڑہ سے ٨٠ کلو میٹر دور سمندر میں لنگر انداز ہوئے، اس دوران ہم لوگوں نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں،اب وہاں نمازوں کی ادائیگی میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا، بعض نمازیوں کا خیال تھا کہ چوں کہ ابھی کراچی میں داخل نہیں ہوئے ،لہٰذا ہمیں قصر نماز پڑھنی چاہیے اور کچھ کا خیال تھا کہ ہمیں پوری نماز پڑھنی چاہیے،اب چوں کہ ہمارے پاس دونوں باتوں کی واضح سند نہیں تھی ،لہٰذا گومگو کی کیفیت تھی،بہرحال ہم لوگوں نے اس صورت میں یہ کیا کہ جس شخص کا دل قصر نماز کی طرف زیادہ مائل ہے، وہ قصر نماز ادا کرے اور جس کا پوری نماز کی طرف مائل ہے وہ پوری نماز ادا کرے، یہ بات بہرحال ہم نے واضح کر دی تھی کہ ہمارا دین اﷲ کی مرضی اور آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے طریقے کا نام ہے،اس میں کسی شخص کی ذاتی خواہش کو کوئی دخل نہیں، اس مسئلے سے متعلق کچھ ضروری باتیں درجہ ذیل ہیں:

۱۔ کوئی بھی ملک اپنی سمندری سرحد ١٢ سمندری میل مانتا ہے، یہ ایک بین الاقوامی مسلمہ قانون ہے، اس حد کے اندر اگر کوئی ملک غیر قانون سرگرمی کرے گا تو اس ملک کو اختیارہوتا ہے وہ اپنے قانون کے تحت کارروائی کرے۔

اب چوں کہ کراچی شہر (پورا شہر) سمندر کے ساتھ ہے ،لہٰذا اس کی اختتامی حدود وہی ہوں گی جو کہ پاکستان کی بین الاقوامی سمندری سرحد ہے۔

ایک سمندری میل (One Nautical Mile) برابر ہوتا ہے ١٨٥٢ میٹر کے۔ لہٰذا١٢ سمندری میل ٢٢٤،٢٢ کلومیٹر بنتے ہیں۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں ہمیں فتویٰ مل جائے تاکہ ہمارے پاس سند رہے۔

جواب

قاعدہ یہ ہے کہ لنگر گاہ اور شہر کے درمیان ١٥٠ گز یعنی ٤٥٠ فٹ یا اس سے زیادہ کا فاصلہ ہو تو اس میں قصر نماز پڑھی جائے گی اور اگراس سے کم فاصلہ ہو تو مکمل نماز پڑھی جائے گی، کیوں کہ یہ مضافاتِ شہر میں داخل ہو کر شہر کے حکم میں ہو جائے گی،لہٰذا صورت مسئولہ میں قصر نماز پڑھنی چاہیے تھی،جنہوں نے نماز مکمل چار رکعت ادا کی ہے،ان پر نماز کا لوٹانا واجب ہے۔

''ومن خرج من عمارۃ موضع إقامتہ قاصداً مسیر ثلاثۃ أیام ولیالھا من أقصر أیام السنۃ بالسیر الوسط مع الاسترحات المعتادہ۔۔۔صلی الفرض الرباعی رکعیتن) وجوباً.''(تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ ٢/١٢٣،١٢٥،سیعد)

قال ابن عابدین رحمہ اﷲ تعالیٰ :وَأَمَّا الْفِنَاء وَھوَ الْمَکَانُ الْمُعَدُّ لِمَصَالِحِ الْبَلَدِ کَرَکْضِ الدَّوَابِّ وَدَفْنِ الْمَوْتَی وَإِلْقَاء ِ التُّرَابِ، فَإِنْ اتَّصَلَ بِالْمِصْرِ اُعْتُبِرَ مُجَاوَزَتُہُ وَإِنْ انْفَصَلَ بِغَلْوَۃٍ أَوْ مَزْرَعَۃٍ فَلَا کَمَا یَأْتِی.''(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب صلوٰۃ باب صلوٰۃ المسافر ٢/١٢١،سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی