مسافر امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے مقیم امام کی نیت کرنا

مسافر امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے مقیم امام کی نیت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید ہوائی جہاز پر ڈیوٹی کرتا ہے، جب جہاز کراچی سے لاہور ایئرپورٹ پر پہنچا تو وہاں ایئرپورٹ کی مسجد میں ظہر کی نماز ہو رہی تھی ،زید وضو کرکے فوراً جماعت میں مقیم امام کی اقتداء کی نیت کرکے شامل ہو گیا ،لیکن امام نے دو ر کعت کے بعد سلام پھیر دیا کیوں کہ امام بھی مسافر تھا، اب زید اپنی نماز کس طرح مکمل کرے گا؟ کیا ا مام کےساتھ سلام پھیر دے یاکہ چار رکعت پوری کرے اور اس قسم کی مسجد جو ائیرپورٹ کے اندر ہوتی ہیں اور امام مقرر نہیں ہوتااور وہاں پر موجود لوگ کسی کو امام کھڑا کرکے نماز پڑھتے ہیں، جو کبھی مسافر ہوتا ہے ،کبھی مقیم ، تو بعدمیں آنے والے مسبوق مسافر کو کیا  نیت کرنی چاہیے؟

جواب

اس صورت میں امام کے ساتھ سلام پھیر دے، رہی نیت کی غلطی تو یہاں اس کا کوئی اعتبار نہیں ، ایسی مساجد میں اکثر امام اگر مسافر ہوتے ہیں تو قصر کی نیت کرے ،پھر اگر مسافر نہ ہو بلکہ مقیم ہو تو پوری پڑھ لے، ورنہ قصر کرے، اس مسئلہ میں نیت کی غلطی کا کوئی اعتبار نہیں۔

''(وَالْمُعْتَبَرُ فِیہَا عَمَلُ الْقَلْبِ اللَّازِمِ لِلْإِرَادَۃِ)فَلَا عِبْرَۃَ لِلذِّکْرِ بِاللِّسَانِ إنْ خَالَفَ الْقَلْبَ لِأَنَّہُ کَلَامٌ لَا نِیَّۃَ.''(رد المختار، کتاب الصلاۃ، ١/٤١٥،سعید)
''أَنَّہُ إذَا صَلَّی فِی مِصْرٍ أَوْ قَرْیَۃٍ رَکْعَتَیْنِ، وَہُمْ لَا یَدْرُونَ فَصَلَاتُہُمْ فَاسِدَۃٌ وَإِنْ کَانُوا مُسَافِرِینَ لِأَنَّ الظَّاہِرَ مِنْ حَالِ مَنْ کَانَ فِی مَوْضِعِ الْإِقَامَۃِ أَنَّہُ مُقِیمٌ وَالْبِنَاء ُ عَلَی الظَّاہِرِ وَاجِبٌ حَتَّی یَتَبَیَّنَ خِلَافُہُ، أَمَّا إذَا صَلَّی خَارِجَ الْمِصْرِ لَا تَفْسُدُ، وَیَجُوزُ الْأَخْذُ بِالظَّاہِرِ وَہُوَ السَّفَرُ فِی مِثْلِہِ وَالْحَاصِلُ أَنَّہُ یُشْتَرَطُ الْعِلْمُ بِحَالِ الْإِمَامِ إذَا صَلَّی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ فِی مَوْضِعِ إقَامَۃٍ وَإِلَّا فَلَا.''(رد المختار، باب صلاۃ، المسافر ٢/١٢٩،١٣٠ سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی