بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مریض صحت مند نہ ہو تو روزوں کا فدیہ دینے کا حکم

مریض صحت مند نہ ہو تو روزوں کا فدیہ دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی آدمی بیمار ہوا ہے، اور روزے رکھنے کی طاقت نہیں، اور بعد میں بھی صحت مند نہیں ہوا کہ روزوں کی قضاء کرلیتا، تو اب اس حالت مرض میں جتنے روزے قضاء ہوئے تو ان روزوں کا فدیہ دینا لازم ہے یا نہیں؟وضاحت: مرض دائمی ہے اور ٹھیک ہونے کی امید ہی نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ مرض کی حالت میں فوت شدہ روزوں کی قضاء تب لازم ہے ،جب مریض صحت مند ہوجائے، اور اگر مرض دائمی ہو اور صحت مند ہونے کی امید نہ ہو تو شیخ فانی کی طرح اس پر ہر دن کا فدیہ دینالازم ہے، بشرطے کہ فدیہ دینے پر قادر بھی ہو۔

لما في الرد:

(وللشيخ الفاني) أي: الذي فنيت قوته أو أِرف على الفناء ... ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكلّ يوم من المرض اھ.

(كتاب الصوم: 3/471، 472، رحمانية)

وفي الهندية:

والأصل فيه: أن كل صوم إذا كان أصلًا بنفسه ولم يكن بدلًا عن غيره، جاز الإطعام بدلًا عنه إذا وقع اليأس عن الصوم ... (كتاب الصوم: 1/270، دار الفكر)

وفي البدائع:

وأما وجوب الفداء، فشرطه العجز عن القضاء عجزًا لا ترجى معه القدرة في جميع عمره.. (كتاب الصوم: 2/659، دار النشر)

وفي البحر:

قوله: (ويطعم وليهما لكل يوم كالفطرة بوصية) أي يطعم ولي المريض والمسافر عنهما عن كل يوم أو زكاه كصدقة الفطر إذا أو صيانه... (كتاب الصوم، فصل في العوارض: 2/497، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 155/176