بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قضاء نماز کی ادائیگی ضروری ہے یا نہیں؟

قضاء نماز کی ادائیگی ضروری ہے یا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ جو نمازیں چھوٹ جائیں ان کا پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قضا نماز پڑھنا نہ صرف یہ کہ غیر ضروری ہے، بلکہ جائز ہی نہیں؟

جواب

مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ :جو شخص (وقت کے اندر) نماز ادا کرنا بھول جائے، اسے چاہیے کہ ( بعد میں) یاد آنے پر اس کو (ضرور) پڑھ لے،”اس حدیث کی شرح میں امام نویؒ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فوت شدہ نماز کی ادائیگی کا حکم فرمانا، اس بات کی دلیل ہے کہ بعد میں اس کی قضا واجب اور ضروری ہے،خواہ وہ نماز عدز کی بنا پر فوت ہوئی ہو ،یا بغیر کسی عذر کے، کیوں کہ جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عذریعنی بھول جانے کی بنا پر فوت شدہ نماز کی ادائیگی کا تاکیدی حکم فرما دیا، تو بغیر کسی عذر کے چھوڑ دی جانے والی نماز کا ادا کرنا زیادہ ضروری ہو جائے گا،آخر میں امام نوویؒ نے ان لوگوں پر نہایت سختی کے ساتھ رد کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ بغیر کسی عذر کے فوت شدہ نماز کی قضاء ضروری نہیں اور فرماتے ہیں کہ ان کا یہ قول غلطی او رجہالت پر مبنی ہے( حوالہ: مسلم شریف ”عربی” مع شرح نوویؒ:ص٢٣٨،ج١)

''عَنْ أَبِی ہرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ، سَارَ لَیْلَہُ حَتَّی إِذَا أَدْرَکَہُ الْکَرَی عَرَّسَ۔۔۔۔وَنَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُِ حَتَّی ضَرَبَتْہُمُ الشَّمْسُ، فَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَّلَہُمُ اسْتِیقَاظًا۔۔۔۔ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، فَصَلَّی بِہِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ: مَنْ نَسِیَ الصَّلَاۃَ فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللہَ قَالَ: (أَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِی).''

''قال الامام النوی رحمہ اﷲ: استحباب تعجیل قضائھا حاصل المذاہب انہ اذا فاتۃ فریضۃ وجب قضاء ہا فان فاتت بعذر استحب قضاءہا علی الفور ویجوز التاخیر علی الصحیح.''قولہ: صلی اﷲ علیہ وسلم من نسی الصلوٰۃ فلیصلھا اذا ذکرہا) فیہ وجوب قضاء الفریضۃ الفائتۃ سواء ترکہا بعذرکنوم أو نسیان ام بغیر عذر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛ لأنہ اذا وجب القضاء علی المعذور وفغیرہ اولی بالوجوب وہومن باب التشیبہ بالادنی علی الاعلی.'' (مسلم مع شرح النووی، کتاب الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوٰۃ ١/٢٣٨، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی