بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قضاء نماز پڑھنے کے اوقات

قضاء نماز پڑھنے کے اوقات

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی سے عشاء کی نماز قضا ہوئی اور وہ آدمی اس قضا شدہ نماز کو فجر کی سنتوں کے بعد یا سنتوں سے قبل پڑھ سکتا ہے، یاکہ نہیں؟جبکہ  وہ فجر کے وقت قضا کی نیت سےوہ  نماز پڑھتا ہے؟

جواب

قضا شدہ نماز اوقات مکروہہ یعنی غروب آفتاب،طلوع آفتاب اور استواء شمس کے علاوہ باقی سب اوقات میں جائز ہے، اوقات ثلاثہ میں نماز وقت کی وجہ سے مکروہ ہے،لہٰذا وہ کراہت عام ہے فرض بھی مکروہ ہے، نفل بھی، ادا بھی اور قضاءبھی، طلوع فجر کے بعد اور وقت عصر شروع ہونے کے بعد نوافل تو مکروہ ہیں، لیکن قضا نماز وفرائض وغیرہ مکروہ نہیں ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ سنت فجر اور فرض کے درمیان میں نہ پڑھیے، کیوں کہ سنت کا اتصال فرض سے مروی اور ضروری ہے ،یا تو سنت فجر سے پہلے پڑھے اور یا فرض فجر کے بعد۔
''وَجَمِیعُ أَوْقَاتِ الْعُمْرِ وَقْتٌ لِلْقَضَاء ِ إلَّا الثَّلَاثَۃَ الْمَنْہِیَّۃَ.''( الدر المحتار، کتاب الصلاۃ ٢/٦٦، سعید)

''ویجوز قضاء الفوائت فی أیّ وقت شاء الا فی ثلاث ساعات لا یجوز التطوع، ولا تجوز المکتوبۃ.'' (فتاویٰ قاضی خان، کتاب الصلوٰۃ، باب الأذان، ١/٧٤، رشیدیۃ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی