بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قریبی مسجدکی جماعت کی نماز چھوڑ کر دفتر میں جماعت کرانا

قریبی مسجدکی جماعت کی نماز چھوڑ کر دفتر میں جماعت کرانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کسی دفتر یا سینٹر کے متصل ساتھ میں مسجد ہونے کے باوجود وہ دفتر یا سینٹر والے مسجد کو جماعت نماز پڑھنے کے لیے نہ جائیں ، ادھر اپنے دفتر اور سینٹر کے حدود میں نماز با جماعت پڑھیں؟مسئلہ مذکورہ کی پوری وضاحت فرمائیں،نیز مذکورہ صورت میں اگر ان دفتر والوں میں سے کوئی مسجد میں نماز با جماعت پڑھنے چلا جائے ، ان کی جماعت کو چھوڑ کر تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس کی بھی وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ دفتر یا سینٹر والوں کا مسجد کی جماعت چھوڑ کر مستقل طور دفتر یا سینٹر ہی میں جماعت نماز ادا کرنا درست نہیں، مسجد کے ثواب سے محرومی ہے، البتہ اگر کبھی کبھار عذر کی بناء پر مسجد کی جماعت نکل جائے، تو پھر دفتر یا سینٹر میں جماعت کرانے میں کوئی حرج نہیں۔

لما في إعلاء السنن:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وسلم قال: «لو أن رجلًا دعا الناس إلى عرق أومر ماتين أجابوه، وهم يدعون إلى هذه الصلاة في جماعة فلا يأتونها، لقد هممت أن آمر رجلًا أن يصلي بالناس في جماعة ثم انصرف إلى قوم سمعوا النداء فلم يجيبوا فأضرمها عليهم نارًا إنه لا يتخلف عنها إلا منافق .....قلت: وهذا صريح في أن وجوب الجماعة إنما يتأدى لجماعة المسجد لا بجماعة البيوت ونحوها ...فالصحيح أن الجماعة واجبة مع وجوب إتيانها في المسجد، ومن أقامها في البيت وهو يسمع النداء، فقد أساء وأثم.(كتاب الصلاة، باب وجوب إتيان الجماعة في الجماعة عند عدم العلّة وعدم كونها شرطًا لصحة الصلاة. ح: 1157، 4/186، إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي)

وفي البدائع:

فقد قال عامة مشايخنا إنها واجبة، وذكر الكرخي: أنها سنة .... ألا ترى أن الكرخي سماها سنة، ثم فسرها بالواجب، فقال الجماعة: سنة لا يرخص لأحد التأخر عنها إلا لعذر، وهو تفسير (الواجب) عند العامة.(كتاب الصلاة، فصل فيما يجب على السامعين: 1/661، دار الكتب، بيروت).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 154/83